آخری وقت اشاعت:  Monday, 10 august, 2009, 18:43 GMT 23:43 PST

بلوچستان: یومِ آزادی، یومِ سیاہ

وزیرِاعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی

وزیرِاعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اتناآسان نہیں ہے جس طرح سمجھاجا رہا ہے

خود کو بلوچ قوم پرست اور آزادی پسند کہنے والی زیادہ تر جماعتوں نے گیارہ اگست کو بلوچستان کا 'یوم آزادی' اور چودہ اگست منائے جانے والے پاکستان کے یوم آزادی کو 'یوم سیاہ' کے طور پرمنانے کا اعلان کیا ہے۔

ان جماعتوں کے رہنماﺅں کا کہناہے کہ گیارہ اگست کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں بقول ان کے پاکستان کے ریاستی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

فرنٹئر کور نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مختلف سرکاری اور پرائیوٹ گاڑیوں پر پاکستانی جھنڈے لہرانے اور قومی ترانے بجانے کاسلسلہ شروع کیا ہے اور مذکورہ بالا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 'گاڑیوں اور گھروں پر جھنڈے لہرانے اور چودہ اگست کی تقریبات منانے والوں کومعاف نہیں کیاجائے گا'۔

گیارہ اگست کو بلوچستان کا 'یوم آزادی' کے طور پر منانے کی وجوہات بتاتے ہوئے بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹرحکیم لہٹری نے کہا کہ 'ایک سو سات سال انگریز کے قبضے میں رہنے کے بعد بلوچستان یعنی اس وقت کے قلات سٹیٹ کوگیارہ اگست انیس سوسنتالیس میں آزادی ملی تھی کیونکہ اس وقت بھی بلوچستان برصغیر کاحصہ نہیں تھا بلکہ براہ راست انگریزوں کے قبضے میں تھا اس وجہ سے گیارہ اگست کولارڈ ماﺅنٹ بینٹن نے آل انڈیا ریڈیو سے بلوچستان کی آزادی کا اعلان کیا تھا جب کہ جناح اور گاندھی جی کو بھی کہا تھا کہ آپ لوگ بھی آزادی کا اعلان کریں۔ اس طرح پاکستان نے چودہ اگست کو آزادی کااعلان کیا لیکن انڈین جوتشیوں نے گاندھی جی کو کہا کہ انڈیا کے لیے چودہ اگست کا دن منحوس ہے لہذا آپ انڈیا کی آزادی پندرہ اگست کی رات کوبارہ سے ایک بجے کے درمیان کریں کیونکہ اس وقت ٹائم زیرو چل رہا ہوتا ہے اس طر ح اس خطے میں گیارہ سے پندرہ اگست کے دوران ان تین ریاستوں کو آزادی ملی تھی'۔

خود کو آزادی پسند کہنے والے ان زیادہ تر بلوچ رہنماﺅں کا موقف ہے کہ پاکستان نے انگریز سرکار کی ایما پر ایک بار پھر ستائیس مارچ انیس سو اڑتالیس میں بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

بلوچستان فائل فوٹو

گیارہ اگست کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ بلوچستان کوآزاد کر کے ستائیس مارچ انیس سو اڑتالیس سے پہلے کی پوزیشن میں لایاجائے اور بقول ان کے 'بلوچستان کی آزادی کے لیے بلوچوں کی جدوجہدجاری رہے گی'۔

تاہم وزیرِاعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کا کہناہے کہ بہت جلد بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور سفارشات مکمل کر کے مرکز کو پیش کی جائیں گی اور جلد ہی بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے جس میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو بھی مدعوکیاجائے گا۔ تاہم وزیرِاعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اتناآسان نہیں ہے جس طرح سمجھاجا رہا ہے اس کوحل کرنے کے لیے ہر قدم بڑی احتیاط سے رکھنا ہو گا۔

بلوچستان کے سیاسی امور کے ماہر اور ممتاز قانون دان طاہر محمد خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ گورنر جنرل غلام محمد ملک سے لے کر صدرآصف علی زرداری تک بلوچستان کے حوالے سے مرکز کے رویے میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے اب بلوچستان کے زیادہ تر لوگ فیڈریشن سے الگ ہونے کی باتیں کرنے لگے ہیں اور مرکزی حکومت ان لوگوں کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے مسئلے کے فی الفور حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر تعلیم شفیق احمد خان کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت بلوچستان کے مسئلے کے فوری حل میں سنجیدہ ہے اور اس مقصد کے لیے سینیٹر ڈاکٹر بابر اعوان کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق صدر اور وزیر اعظم نے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو ہدایت کی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو بلوچستان کے لوگوں سے رابطہ کر کے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے علاوہ گوادر پورٹ اور فوجی چھاؤنیوں کے مسئلے پر بلوچستان کے سیاسی رہنماﺅں سے مل کر سفارشات جلد مرکزی حکومت کو پیش کریں۔

لیکن نیشنل پارٹی پارلیمینٹیرین سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر برائے ایس اینڈ جی اے ڈی سردار ثنااللہ زہری نے کہا کہ 'ایک توجب بھی پاکستان میں کسی کا م کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے وہ کام ہی نہیں ہوا ہے اور بلوچستان کے لیے یہ کمیٹیاں جن لوگوں پر مشتمل ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر کی یہاں کے پشتون بلوچ قبائلی معاشرے میں کوئی حثیت نہیں ہوتی، یہ لوگ اگر کسی لیڈر یاقبائلی سردار کے پاس جائیں گے تو یہ خود اس سیاسی اور قبائلی لیڈر کی تذلیل ہوگی اور میرا خیال نہیں کہ بلوچستان کے سیاسی قائدین ان لوگوں سے بات کریں گے'۔

مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر بلوچستان کوصوبائی خودمختاری دے دے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت بلوچستان کے مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں

طلال بگٹی

سردار ثنااللہ زھری نے کہا کہ 'صدر زرادری کو براہ راست بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے خود آگے آنا چاہیے کیونکہ کہ ان کی ذاتی دلچسپی کے بغیر بلوچستان کے مسئلے کی حل کی طرف جانا ممکن نہیں ہے'۔

اس سلسلے میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سابق سینیٹر رضا محمد رضا کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو نئی کمیٹیاں بنانے کی بجائے مشرف دور میں وسیم سجاد اور سید مشاہد حسین کی سربراہی میں بننے والی کمیٹیوں کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کر نا چاہیے کیونکہ ان کمیٹیوں کی تجاویز میں بلوچستان کے گیس، گوادر پورٹ فوجی چھاؤنیوں، لاپتہ افراد، ساحلی وسائل، این ایف سی ایوارڈ اور صوبے میں پشتون بلوچ مسئلے سمیت تمام مسائل کے لیے سفارشات موجود ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر جہانزیب بادینی کہتے ہیں کہ 'مشرف دور میں گوادر سمیت کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ بلوچستان کے لوگوں کے مفاد میں نہیں بنایا گیا۔ بقول ڈاکٹر جہانزیب کے 'پنجاب میں زرعی زمین اور پانی پر کوئی ٹیکس نہیں اور اس سے ہونے والی تمام آمدنی پر وہاں کے لوگوں کاحق ہوتا ہے لیکن بلوچستان کے زیر زمین وسائل پر مرکز کا کنٹرول ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو گیس، گوادر اور سیندک پروجیکٹ جیسے منصوبوں سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں کے تو وزیراعلیٰ کو بھی پیکجیز کے حصول کے لیے مہینے میں کئی کئی بار اسلام آباد کے چکر لگانا پڑتے ہیں'۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹرمالک کا کہنا ہے کہ 'جب بھی بلوچستان کا مسئلہ حل کی طرف جاتاہے توسکیورٹی فوزسز کی جانب سے ہمارے قائدین کو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ نواب محمد اکبر بگٹی اور ان کے بعد غلام محمد بلوچ کو ہلا ک کیا گیا'۔ انہوں نے کہا کہ 'جس طر ح انیس سوتہتر کے بلوچستا ن آپریشن سے پیپلز پارٹی کی بدنامی ہوئی تھی اسی طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک بار پھر بلوچستان کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جائے گا'۔

پنجاب میں زرعی زمین اور پانی پر کوئی ٹیکس نہیں اور اس سے ہونے والی تمام آمدنی پر وہاں کے لوگوں کاحق ہوتا ہے لیکن بلوچستان کے زیر زمین وسائل پر مرکز کا کنٹرول ہے

ڈاکٹر جہانزیب

نواب بگٹی کے صاحبزادے اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی کا کہنا ہے کہ 'مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر بلوچستان کوصوبائی خودمختاری دے دے'۔ ان کا کہنا ہے کہ 'پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت بلوچستان کے مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، اگر سنجیدہ ہوتی تو پہلے قدم کے طور پر بلوچستان کے لاپتہ بلوچوں کو منظر عام پر لانے کے علاوہ مری کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سے فوج کو نکالتی'۔

نوابزادہ طلال بگٹی نے تجویز دی کہ 'بہتر یہ ہے کہ حکومت کی باگ ڈور میاں محمد نواز شریف کے ہاتھوں میں دے دی جائے کیونکہ میاں نواز شریف ایک وطن دوست انسان ہیں اور وہی بلوچستان کے مسئلے کوحل کر سکتے ہیں'۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔