آخری وقت اشاعت:  Monday, 3 august, 2009, 15:24 GMT 20:24 PST

سندھ ہائی کورٹ کا حکومت کو نوٹس

کراچی کے بہت سے علاقے نو گو ایریاز میں تبدیل ہو گئے ہیں

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاست کی ناکامی کے خلاف دائر آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور آئی جی سندھ پولیس کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

یہ درخواست پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن ساؤتھ ایشیا کے رکن اقبال کاظمی نے دائر کی ہے، جس کی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس محمد اطہر سعید پر مشتمل ڈویزن بینچ میں پیر کو سماعت ہوئی، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

اقبال کاظمی نےاس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ رواں سال تیس جون تک کراچی کے مختلف علاقوں میں 445 افراد کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ہے، جن میں ایم کیو ایم حقیقی کے 54 رکن اور ہمدرد شامل ہیں۔ یہ ہلاکتیں شاہ فیصل کالونی، ملیر سٹی، کھوکراپار، سعود آباد، ماڈل کالونی، اورنگی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی اور دیگر تھانوں کی حدود میں ہوئی ہیں مگر ان مقدمات میں ابھی تک کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکار شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں نوگو ایریاز قائم ہوچکے ہیں جہاں مخالف لوگوں کا جانا ممکن نہیں رہا ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کراچی میں گزشتہ چھ ماہ میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے تفصیلات طلب کی جائیں اور اس کے ساتھ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس بھی طلب کی جائیں جن کی روشنی میں کارروائی کی جائے۔ درخواست میں شہر سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کے لیے آپریشن کا حکم جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں کچھ عرصے سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، جس کا وفاقی حکومت نے نوٹس لیا تھا گزشتہ ماہ وفاقی وزیر رحمان ملک نے کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں اور بتایا تھا کہ رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

چودہ جولائی کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آج کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہیں ہوں مگر اس کے بعد بھی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے میں ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ ایک یونین کاؤنسل نائب ناظم اور پیپلز پارٹی کے دو اراکین قتل ہوچکے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا مگر وزارات داخلہ کی جانب سے تاحال کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا، مگر اس سے پہلے درخواست کے ذریعے یہ معاملہ عدالت میں سماعت کے لیئے آگیا ہے۔

اس درخواست کے پٹیشنر بھی اقبال کاظمی ہیں جنہوں نے بارہ مئی دو ہزار سات کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔