آخری وقت اشاعت:  Sunday, 2 august, 2009, 12:15 GMT 17:15 PST

اضافی بجلی کے لیے تربیلا ڈیم کی توسیع

تربیلا ڈیم

نئی ٹربائن لگانے کے منصوبے پر بہت جلد عملدرآمد کا آغاز کر دیا جائے گا

ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کم رکھنے کے لیے حکومت طویل مدتی پروگرام پر عمل کر رہی ہے جس کے تحت ملک کے سب سے بڑے تربیلا ڈیم کی توسیع کرتے ہوئے اس سے نو سو ساٹھ میگا واٹ اضافی بجلی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بات وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کو بتائی۔

اجلاس میں بجلی پیدا کرنے والی مختلف سرکاری وغیر سرکاری کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نہ صرف ملک میں بجلی کی فوری قلت پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے بلکہ حکومت بجلی کی قیمت میں غیر ضروری اضافہ نہ ہونے دینے کے لیے بھی پر عزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے لیے حکومت نے پن بجلی کی پیداوار بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور تربیلا ڈیم سے اضافی پیداوار کے لیے نئی ٹربائن لگانے کے منصوبے پر بہت جلد عملدرآمد کا آغاز کر دیا جائے گا۔

حکومت نے یہ فیصلہ ان اعتراضات کے بعد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بجلی کی قلت پر فوری قابو پانے کے لیے حکومت ہنگامی طور پر مہنگی بجلی بنانے والے پلانٹ خریدنے کے علاوہ کرایہ پر بھی لے رہی ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ تربیلا کے اس چوتھے توسیعی منصوبے کے باعث نو سو ساٹھ میگا واٹ بجلی نظام میں شامل ہو گی جس سے تیل، گیس اور پانی سے بننے والی بجلی کی مقدار میں تناسب پیدا ہو گا۔

پاکستان میں کل پیدا شدہ بجلی کا تیس فیصد سے بھی کم پانی سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ ملک میں استعمال ہونے والی بجلی کا ستر فیصد سے زائد تیل اور گیس سے حاصل کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بیش بہا آبی وسائل کے باوجود تیل و گیس سے حاصل ہونے والی بجلی کا استعمال زیادہ ہونے کے باعث پاکستان میں بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

واضح رہے کہ تیل و گیس سے تیار کی جانے والی بجلی پن بجلی کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی ہوتی ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔