آخری وقت اشاعت:  Sunday, 2 august, 2009, 20:37 GMT 01:37 PST

لیبہ سکول جانے پر بہت خوش تھی

سوات کا سکول

چند علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں

نو سالہ لیبہ کا تعلق مینگورہ شہر سے ہے اور وہ ایک نجی سکول میں چوتھی جماعت کی طالبہ ہے۔ لیبہ سکول کھلنے پر بہت خوش ہے۔

لیبہ کے مطابق وہ پہلی دفعہ بلا کسی خوف و خطر کے سکول پہنچی ہیں۔ ’ ابو کہتے ہیں کہ اب ان کا سکول کوئی بند نہیں کرسکتا، طالبان چاہتے تھے کہ لڑکیاں صرف چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کریں اور آگے نہ پڑھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے جب وہ سکول جاتی تھی تو گلیوں میں طالبان نظر آتے تھے لیکن آج وہ نہیں تھے۔’ فوج طالبان کے خلاف جنگ کر کے اچھا کر رہی ہے لیکن مجھے کبھی کبھی ان سے بھی ڈر لگتا ہے کیونکہ ان کے پاس بھی بندوقیں ہوتی ہیں۔‘

انٹرویو کے دوران لیبہ کے باتوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ سوات میں دو سالوں کے دوران ہونے والے فوجی آپریشن اور طالبان کے کارروائیوں نے ان بچوں کے ذہنوں پر کس قسم کے اثرات چھوڑے ہیں۔

باتوں باتوں میں اس نے وہ سارے الفاظ بھی دہرائے جو سوات میں گزشتہ دو سالوں کے دوران لوگوں کی زبان پر تھے، یعنی ’ مارٹر گولے، شیلنگ، بمباری، جنگی جہاز، سکولوں میں دھماکے، حلال یاسر قلم کرنا، لاشیں‘ وغیرہ۔

سوات میں فوجی آپریشن کے بعد چند علاقوں میں تو تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں تاہم تعلیمی سرگرمیاں مکمل طورپر بحال ہونے میں ابھی کئی مراحل باقی ہے۔

سوات میں ایک سال کے دوران ڈھائی سو کے قریب سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو عسکریت پسندوں نے بم دھماکوں سے یا نذرآتش کر کے تباہ کیا۔ اس کے علاوہ پچیس سے تیس سکولوں میں اب بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ کئی ایسے سکول بھی تھے جو حملوں کے خوف سے بند کردیے گئے تھے۔

حکام کے سامنے سب سے پہلے تباہ ہونے سکولوں کی تعیمر نو اور بحالی کا مرحلہ ہے۔ سرحد حکومت نے اعلان تو کیا ہے کہ سوات میں تباہ ہونے والے تعلیمی اداراوں پر ساڑھے آٹھ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے لیکن ابھی تک یہ نہیں واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان پر کام کب شروع گا اور کب تک یہ سکول دوباہ فعال ہوجائیں گے۔

جن سکولوں میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں وہاں بھی تاحال تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ جب تک سکولوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے تو یہ امکان موجود رہے گا کہ تعلیمی اداروں پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع نہ ہوجائے۔ سوات میں نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ سکولوں میں فوج کے موجود رہنے سے تعلیمی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا۔

سوات میں دو ماہ کے بعد سردی کا موسم شروع ہوجائے گا ۔ پہاڑی علاقہ ہونے کے ناطے یہاں ہر سال سخت سردی پڑتی ہے اور جو سکول خیموں میں عارضی طورپر بنائے گئے ہیں ان میں سرد موسم پڑھائی ممکن نہیں ہوگی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔