
’جگہ جگہ ناکوں کی وجہ سے نقل و حمل میں بہت وقت لگ رہا ہے‘
جنگ سے متاثرہ ضلع سوات میں فوجی آپریشن کے بعد حالات معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں تاہم لوگ ابھی بھی خوفزدہ ہیں، جبکہ واپس پہنچنے والے متاثرین بھی کئی قسم کے مسائل سے دوچار نظر آتے ہیں۔
سوات کا صدر مقام مینگورہ جہاں چند ماہ قبل تک عسکریت پسندوں کا راج تھا اور لوگ خوف کی وجہ سے گھروں سے نہیں باہر نکل سکتے تھے آج وہاں سکیورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول نظر آتا ہے۔ مینگورہ میں فوجی کاروائیاں مکمل ہونے کے بعد بازار اور کاروباری مراکز کھول گئے ہیں تاہم شہر کی رونقیں ابھی مکمل طورپر بحال نہیں ہوسکی ہیں۔
جمعہ کو چھٹی کے باوجود بھی مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں دوکانیں کھلی رہی اور لوگ معمول کی خریداری میں مصروف دکھائی دیے۔ تاہم اکثر دکاندار شکایت کرتے ہیں کہ جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
مینگورہ کے ایک تاجر طارق جان کا کہنا ہے کہ مینگورہ شہر میں کام کرنے والے زیادہ دکانداروں کا تعلق بالائی سوات اور شہر کے قریبی علاقوں سے ہیں اور ان مقامات کو جانے والے تمام راستے یا تو بند ہیں یا ان پر فوج کا کڑا پہرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن تاجروں نے کاروبار شروع کیا ہے وہ بھی کرفیو، جگہ جگہ تلاشیوں اور تلاشی کی وجہ سے بروقت اپنے کاموں پر نہیں پہنچ رہے جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اہم سڑکوں پر ٹریفک ابھی مکمل طورپر بحال نہیں ہوسکا ہے۔
فروٹ کے ایک دوکاندار گل غنی نے بتایا کہ ’میرا تعلق منگلاور گاؤں سے ہے اور میں روزانہ وہاں سے مینگورہ آتے ہوئے گیارہ چیک پوسٹوں سے گزرتاہوں۔ چند منٹوں کا فاصلہ تین گھنٹوں میں طے کرتا ہوں اور پھر واپسی پر بھی یہی حال ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کا سارا وقت تو آنے جانے میں گزرجاتا ہے، ان حالات میں کیا کاروبار ہو گا۔ ان کے بقول آجکل سوات میں ایسا کوئی علاقہ نہیں ہوگا جہاں چیک پوسٹ قائم نہ ہوں، ہر طرف تلاشیاں اور چیکنگ جیسے کوئی چوروں کی تلاشی لیتا ہے۔
مینگورہ شہر میں ایک دوکان ایسی بھی دیکھی جہاں سے تیز آواز میں پشتو گانوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔یہ موبائل فون کی دوکان تھی جہاں سے لوگ اپنے موبائل فون پر گانے ڈالتے رہے۔ دوکان کے مالک نے بتایا کہ جب یہاں طالبان تھے تو اس وقت بھی دوکان پر کام جاری رہتا تھا لیکن اس وقت وہ صرف نعتیں اور طالبان کے ترانے لوڈ کراتے تھے
۔
مینگورہ شہر میں ایک دوکان ایسی بھی دیکھی جہاں سے تیز آواز میں پشتو گانوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔یہ موبائل فون کی دوکان تھی جہاں سے لوگ اپنے موبائل فون پر گانے ڈالتے رہے۔ دوکان کے مالک نے بتایا کہ جب یہاں طالبان تھے تو اس وقت بھی دوکان پر کام جاری رہتا تھا لیکن اس وقت وہ صرف نعتیں اور طالبان کے ترانے لوڈ کراتے تھے۔
ادھر سوات سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی شروع ہونے کے بعد اب تک صرف مینگورہ شہر تک لوگ واپس پہنچے ہیں جبکہ بالائی سوات کے علاقوں مٹہ، خوازہ خیلہ اور کبل تحصیل کی متاثرین کی واپسی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے افراد بڑی تعداد میں مینگورہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ متاثرین اپنے گھروں کو جانے کےلیے انتہائی بے تاب نظر آتے ہیں۔
کانجو کے ایک رہائشی فضل غنی کہتے ہیں کہ وہ دو ماہ سے اپنےگھر نہیں جاسکے ہیں پتہ نہیں میرے مکان کا کیاحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنا مکان بہت یاد آتا تھا لیکن اب تک گھر کے قریب آگیا ہوں، امید ہے ایک دو دن تک اپنے گھر کا دیدار کر سکوں گا۔
دو دن پہلے مردان سے پہنچنے والے مینگورہ کے ایک باشندے
محمد ادریس نے بتایا کہ لوگ واپس تو آگئے ہیں تاہم وہ اب بھی خوف کی کفیت سے باہر نہیں نکلے ہیں۔ ’جب تک طالبان کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا ، واپس آنے والے لوگوں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔‘
ان کے مطابق طالبان کے اہم کمانڈروں میں ابھی تک کسی کو گرفتار یا ہلاک نہیں کیا گیا ہے لہذا ان حالات میں لوگ کس طرح بھروسہ کریں کہ طالبان کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
© MMIX