Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 1 august, 2009, 08:15 GMT 13:15 PST

سوات: تین ماہ سے بند تعلیمی ادارے کھل گئے

سوات

یکم اگست کو سوات میں تعلیمی اداروں کا پہلا روز تھا

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بند ہونے والے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں تاہم راستوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث پہلے دن سکولوں میں حاضری کم رہی۔

سوات کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے فوجی کارروائی سےچند دن پہلے تین مئی کو اس وقت بند ہوئے تھے جب مینگورہ میں کرفیو نفاذ کیا گیا تھا۔

سرحد حکومت کے اعلان کے مطابق سنیچر کو ضلع بھر میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کھل گئے تاہم ابھی صرف مینگورہ شہر میں سکولوں کو کھولا گیا ہے جبکہ مٹہ اور کبل تحصیل میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں جاری رہنے کی وجہ سے وہاں بدستور تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔

مینگورہ میں وہ سرکاری سکول بھی پہلے دن کھلے رہے جو عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں عمارتیں تباہ ہونے کے بعد اب ٹینٹوں میں بنائے گئے ہیں۔ مجموعی طورپر پہلے دن سکولوں میں حاضری کم رہی تاہم طلبہ اور اساتذہ کے چہروں پر کسی قسم کے خوف کے آثار دکھائی نہیں دیئے۔

سوات میں دو ہزار سے زائد سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ سوات میں تعلیمی اداروں پر حملوں کا سلسلہ مئی دوہزار اٹھ میں اس وقت شروع ہوا جب سرحد حکومت اور طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دو سو سے زائد تعلیمی اداراوں کو بم دھماکوں یا نذر آتش کر کے تباہ کیا گیا ہے جن میں چند بڑے بڑے نجی ادارے بھی شامل ہیں۔

تعلیمی سرگرمیاں اس وقت تک مکمل طورپر بحال نہیں ہو سکتی جب تک علاقے سے کرفیو ختم نہیں کیا جاتا ، چیک پوسٹوں پر آمد ورفت میں نرمی نہیں دی جاتی اور سرکاری و نجی سکولوں سے سکیورٹی فورسز کو ہٹایا نہیں جاتا۔

ضیاءالدین یوسفزئی

تباہ ہونے والے سکولوں میں اکثریت لڑکیوں کے تعلیمی ادارے بتائے جاتے ہیں۔ ان اداراوں پر حملوں کی وجہ سے لاکھوں طلباء و طالبات تعلیم کی حصول سے محروم ہوئے۔

دریں اثناء سوات میں نجی تعلیمی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے سے کرفیو کا نفاذ ختم کیا جائے اور سکیورٹی چیک پوسٹوں پر نرمی دی جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں کا بہتر انداز میں اغاز کیا جاسکے۔ سوات پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداراوں کے تنظیم کے سربراہ خورشید احمد خان نے کہا کہ سوات میں تعلیمی ادارے تو کھل گئے ہیں تاہم ان اداراوں کو اس وقت تک بہتر انداز میں چلایا جاسکے گا جب عوام کو سہولتیں ہوں گی اور وہ بغیر کسی روکاوٹ کے بچوں کو سکول لے آ جا سکتے ہوں۔

تنظیم کے ایک اور رہنما ضیاء الدین یوسفزئی نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیاں اس وقت تک مکمل طورپر بحال نہیں ہو سکتی جب تک علاقے سے کرفیو ختم نہیں کیا جاتا ، چیک پوسٹوں پر آمد ورفت میں نرمی نہیں دی جاتی اور سرکاری و نجی سکولوں سے سکیورٹی فورسز کو ہٹایا نہیں جاتا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے بچوں میں خوف وہراس بڑھ رہا ہے اور ان کی نفسیات پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی بندش کی باعث نجی اداراوں کو نوے کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔