Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 30 july, 2009, 11:26 GMT 16:26 PST

کراچی سے متاثرین کی واپسی شروع

مالاکنڈ متاثرین

مالاکنڈ میں فوجی کارروائی کے دوران ایک اندازے کے مطابق پچیس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی تھی

مالاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران نقل مکانی کرکے کراچی آنے والے خاندانوں کی واپسی کا عمل جمعرات سے باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے اور پہلے دن لگ بھگ ڈیڑھ ہزار متاثرین بسوں کے ذریعے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔

وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ سائیٹ کے علاقے سے چھبیس بسوں پر مشتمل قافلے کو روانہ کیا۔

وزیراعلٰی سندھ کے مشیر وقار مہدی نے بتایا کہ صوبے میں پچاس ہزار سے زیادہ مہاجرین کی رجسٹریشن ہوئی تھی جن میں سے سات ہزار پہلے ہی اپنے طور پر واپس جاچکے ہیں جبکہ باقی متاثرین کی واپسی کے لیے ٹرانسپورٹ اور خوراک کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں مقیم زیادہ تر متاثرین اپنے رشتے داروں کے گھروں یا کرائے پر حاصل کردہ مکانات پر قیام کیے ہوئے تھے جبکہ حکومت کی جانب سے کراچی کے نواحی علاقے گڈاپ میں لگائے گئے کیمپ میں ایک سو ستر افراد مقیم تھے۔

وقار مہدی نے بتایا کہ گڈاپ کیمپ میں قیام پذیر مہاجرین بھی جمعرات کو روانہ ہونے والے قافلے میں شامل تھے جس کے بعد کیمپ بند کردیا گیا ہے۔متاثرہ افراد گھروں کو واپسی پر خوشی سے سرشار نظر آئے۔

سوات کے گاؤں گالے غئی سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ مشتاق احمد کا کہنا تھا ’ ہم بہت خوش ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہے کہ میں خوشی کا اظہار کس طرح کرسکوں۔‘

مشتاق احمد

مشاق احمد سوات واپس پہنچتے ہی درس و تدریس کا عمل دوبارہ شروع کریں گے

مشتاق احمد اپنے علاقے کے ایک سرکاری پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا سکول اور مکان دونوں تباہ ہونے سے بچ گئے ہیں اور وہ واپس پہنچتے ہی درس و تدریس کا عمل دوبارہ شروع کریں گے۔

تاہم انہیں اس بات کی امید کم تھی کہ وادی سوات میں تعلیم کی بحالی کے لیے ماحول سازگار ہوگیا ہے۔’تعلیم تو میرے خیال میں پہلے جیسے نہیں رہے گی، بہت نقصان ہوا ہے اور محنت بہت کرنی پڑے گی۔ باقی اللہ سے یہ تمنا رکھتا ہوں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ جن تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے انہیں جلد تعمیر کرے۔‘

مشتاق احمد کے بیٹے آٹھ سالہ بلال نے کہا کہ میں آج بہت خوش ہوں کہ اپنے گاؤں جا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہاں پر بہت گرمی ہے کراچی میں ہم نہیں رہ سکتے۔‘

سوات میں بارھویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں اور لڑائی کی وجہ سے انہیں اپنے امتحانات ادھورے چھوڑ کر اہل خانہ کے ساتھ کراچی آنا پڑا تھا۔اب پشاور میں کالج میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھیں گی

اجیلہ

پچاس سالہ بختی بینا کے چہرے پر نقاب تھا لیکن ان کی آنکھوں سے خوشی جھلک رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’خوش بہت خوش ہوں بچہ! میں جب ادھر آئی تو بہت روئی اور بولی کہ میں واپس اپنے وطن نہیں جا سکوں گی اور ادھر ہی مر جاؤں گی۔

بیس سالہ اجیلہ کا کہنا تھا کہ وہ صدر آصف زرداری کی بہت شکر گذار ہیں کہ ان کی وجہ سے کراچی میں اتنی عزت ملی اور ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جاتے ہوئے ہمیں اتنے وقار سے بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہی چاہتی ہیں کہ سوات میں ہمارا ذریعہ تعلیم پھر سے ٹھیک ہوجائے۔‘

اجیلہ نے بتایا کہ وہ سوات میں بارھویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں اور لڑائی کی وجہ سے انہیں اپنے امتحانات ادھورے چھوڑ کر اہل خانہ کے ساتھ کراچی آنا پڑا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب پشاور میں کالج میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھیں گی۔

ساٹھ سالہ آرزو مند خان کا کہنا تھا کہ’یہ ہجرت میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا لیکن اب خوشی سے جا رہے ہیں۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔