
یہ شیر سائبیریا کے برفزاروں میں پایا جاتا ہے
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کے خاندان کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین کے خلاف درآمد کیا گیا نایاب نسل کا شیر حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سائبیریا میں پایا جانے والا یہ شیر نواز شریف کے بھتیجے اور پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کے بیٹے سلمان شریف نے درآمد کیا تھا۔
شیر کی درآمد پر ذرائع ابلاغ میں ایک شور مچ گیا تھا کیونکہ اس نایاب شیر کو ائرکنڈیشنڈ پنجرے میں رکھا جاتا تھا۔خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت زبردست گرمی پڑ رہی ہے اور اس گرمی میں ملک بجلی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔
سلمان شریف نے یہ شیر کینیڈا سے جولائی کی تئیس تاریخ کو خریدا تھا جبکہ ملک میں بلی کی نسل سے تعلق رکھنے والے بڑے جانوروں کی برآمد پر فروری دو ہزار نو سے پابندی عائد ہے۔
یہ شیر شریف خاندان کے رائے ونڈ فارم پر بجلی سے ٹھنڈا رکھے جانے والے ایک خصوصی احاطے میں رکھا گیا تھا۔ جب یہ خبر شائع ہوئی کہ اس احاطے کو مقامی طور پر بجلی سے ٹھنڈا رکھا جاتا ہے تو ملکی اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں شدید تنقید شروع ہو گئی۔
پاکستان میں اس وقت بجلی کا بحران اتنا شدید ہے کہ شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے کی روزانہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔
اس تنقید کے پیش نظر شہباز شریف نے حکم دیا کہ اس شیر کو فوری طور پر حکام کے حوالے کر دیا جائے۔
جنگلی حیات کے عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی پاکستان میں شاخ کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اب اس شیر کو رکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے علی حسن حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق شیر کو صوبے سرحد کی حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح نہیں کہ کیوں صوبے سرحد کی حکومت کا انتخاب کیا گیا تاہم ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سرحد میں موسم پنجاب کی نسبت ٹھنڈا رہتا ہے۔
حسن حبیب نے کہا کہ جب یہ معاملہ اخبارات میں اٹھایا گیا اس کے بعد شریف خاندان نے ان سے مدد کے لیے رجوع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس شیر کو رکھنے کی سہولیات موجود نہیں تھیں تاہم وہ اس کو کہیں اور منتقل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار تھے۔
© MMIX