Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 28 july, 2009, 13:28 GMT 18:28 PST

’آج اپنا ٹیپ ریکارڈر نکال کر منی بیگم کی غزلیں سنیں۔۔۔‘

سوات واپس آنے والے لوگ چیک پوسٹ پر

وادی سوات کو لوٹنے والوں کا قافلہ

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ تقریباً دو ماہ کی کارروائی کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ مینگورہ اور بعض دیگر علاقوں پر سکیورٹی فورسز کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔ اس کے بعد کیمپوں اور رشتہ داروں کے ہاں مقیم ’بےگھر افراد‘ کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ان دو ماہ میں ان علاقوں میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور واپس لوٹنے والے کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اس سلسلے میں سوات کی ایک متاثرہ خاتون ٹیچر کی آپ بیتی شائع کر رہی ہے۔ اس خاتون ٹیچر کو طالبان نے نوکری چھوڑنے کی دھمکیاں دی تھیں مگر انہوں نے انکار کردیا تھا۔ سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر وہ ’گل سانگہ‘ کے فرضی نام سے اپنی ڈائری لکھ رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی:

پیر، بیس جولائی:’ کاش فوج طالبان کو ختم کرکے ہمارا دل جیتتی‘

کل رات سے ہی ہم سبھی گھر والے بہت خوش تھے اور ہر کوئی سوات واپس جانے کے لیے اپنا سامان سمیٹنے میں مصروف تھا۔ میرے ایک چھوٹے بھتیجے نے جانے سے انکار کردیا۔ وہ کہہ رہا تھا ’د ڈزو کور تہ نہ زم‘ (مجھے اس گھر نہیں جانا جہاں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں) ۔ ہم نے اس کو یہ کہہ کر منالیا کہ اب وہاں فائرنگ نہیں ہوتی۔ صبح چارسدہ سے نکلتے وقت میری عجیب سی کیفیت تھی۔ خوشی اس بات پر تھی کہ واپس اپنے وطن لوٹ رہی ہوں اور دکھ اس لیے کہ میں چارسدہ کو چھوڑ رہی ہوں۔ سوات میرے لیے اپنی جائے پیدائش اور چارسدہ نے تحفظ اور محبت دی۔گھر سے روانہ ہوئے تو شیرگڑھ پہنچے جہاں میں نے غریب الوطنی میں پہلی بار اتنی زیادہ تعداد میں سواتیوں کو دیکھا۔ وہ بھی بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔

واپس آنے والے بچوں میں ٹافیاں تقسیم

’ہمارے دل جیتنے کے لیے انہوں نے بچوں کو ٹافیاں، پنسل اور قلم دیئے‘

شیرگڑھ سے روانہ ہوئے تو سخاکوٹ، درگئی اور لنڈاکئی پر فوجیوں نے ہماری تلاشیاں لیں۔ ہمارے دل جیتنے کے لیے انہوں نے بچوں کو ٹافیاں، پنسل اور قلم دیئے۔ میں نے سوچا کاش وہ ٹافیاں دینے کی بجائےطالبان کا صفایا کر کے ہمارے دل جیتنے کی کوشش کرتے۔

سب سے زیادہ خوشی مینگورہ میں داخل ہوکر ہوئی۔ ہم نے سوچا تھا کہ جنگ کی وجہ سے شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہوگا لیکن چند ایک عمارتوں کے علاوہ شہر بالکل صحیح سلامت تھا۔ اپنے گھر پہنچ کر ہم سب کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ میری ماں چند دن پہلے آئی تھیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر خوب روئے۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی تو دیکھا کہ میری ہر چیز اسی حالت میں پڑی ہوئی تھی جس حالت میں ہم یہاں سے بھاگتے وقت چھوڑ گئے تھے۔ کمرے میں عنکبوت کے جالے بنے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے پڑوسی بھی ملنے آئے، وہ ہم سے زیادہ خوش اس لیے تھے کیونکہ اب خالی محلہ آباد ہو رہا تھا۔

منگل، اکیس جولائی: ’جیسے نیا گاؤں آباد ہو رہا ہے‘

آج میں دیر سے جاگی۔ دو ماہ کی مہاجرت، گرمی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے میری نیند کبھی پوری نہیں ہوسکی۔ جاگتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے پورے دو مہینے کی نیند ایک ہی رات میں پوری کی ہو۔ یہاں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ بجلی نہ بھی ہو تو گرمی نہیں لگتی۔ سوچا جب اپنا وطن، اپنا شہر، اپنا گھر، اپنا کمرہ اور اپنا بستر ہو تو ہم جیسے مصیبت زدوں کو اور کیا چاہیے۔

جب اپنا وطن، اپنا شہر، اپنا گھر، اپنا کمرہ اور اپنا بستر ہو تو ہم جیسے مصیبت زدوں کو اور کیا چاہیے

آج بھی ہمارے گھر پڑوسیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ہمارا محلہ صحیح سلامت ہے، کسی کے گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ہمارے محلے میں پانی کی قلت ہے۔ خوبصورت لڑکیاں مٹکے سروں پر اٹھائے کنؤوں سے پانی بھرتی نظر آئیں۔ ایسا لگا جیسے یہ مومن خان شیر نو ( پشتو ادب میں محبت کی ایک فولک داستان کے دو کردار) کا دور واپس لوٹ آیا ہے۔ شہر میں اتنی خاموشی ہے کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی نیا گاؤں آباد ہو رہا ہے۔

شہر میں کرفیو نافذ ہے لیکن پھر بھی لوگ گلی کوچوں میں نکل آتے ہیں۔ طالبان یہاں سے غائب ہوگئے ہیں۔ لیکن لوگ چوروں سے خوفزدہ ہیں، لہذا وہ شام ہوتے ہی مکانوں کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔

بدھ، بائیس جولائی: ’لوگوں نے ابھی تک سامان نہیں کھولا ہے‘

آج میں نے گھر کی صفائی کی اور اس کے بعد کھانا پکایا۔ شہر میں کھانے پینے کی اشیاء نہیں مل رہی ہیں۔ ہم ضرورت کی اشیاء اپنے ساتھ ہی لائے ہیں۔ کل ہمارے محلے میں ایک اور خاندان واپس آیا۔ اس گھر کی ایک خاتون ہمارے گھر آئی ہوئی تھی۔ اس نے مینگورہ سے نقل مکانی کے وقت کا ایک قصہ سنایا کہ جب وہ پیدل جا رہے تھے تو انہوں نے ایک بیگ میں کچھ سامان اور دس ہزار روپے رکھے تھے۔ ’ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر ہم سے یہ کہہ کر بیگ لیا کہ تم لوگ تھک چکے ہو، اسے میں ہی اٹھا لیتا ہوں۔ ہم نے اسے بیگ دیا تو وہ اس کو لے کر بھاگ گیا۔‘

آج مجھے اپنے سہیلیوں کے فون بھی آئے۔ وہ یہاں کے حالات کے بارے میں پوچھ رہی تھیں کہ اگر ٹھیک ہیں تو وہ بھی واپس آنا چاہتی ہیں۔ میں نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ خود آکر حالات کو دیکھیں۔ لیکن میں نے انہیں یہ بات نہیں بتائی کہ یہاں پر اب بھی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابھی تک سامان باندھ کے رکھا ہے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں حالات دوبارہ خراب نہ ہوجائیں۔

جمعرات، تئیس جولائی: ’چھ ماہ بعد میوزک سننے کا موقع ملا‘

ابھی کچھ دیر پہلے ہی میں میوزک سن رہی تھی۔ میں نے چھ مہینے پہلے میوزک سنا تھا لیکن جب طالبان نےگانے بجانے پر ’پابندی‘ لگائی تب سے صرف ہمارے نہیں بلکہ کسی بھی گھر میں گانا نہیں بجا ہے۔ طالبان نے ڈش انٹینا، ٹیلی ویژن اور کیبل پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ہم چوری چھپے بھی اس لیے نہیں سن سکتے تھے کہ طالبان کے ہر محلے میں اپنے جاسوس تھے۔ وہ مکانوں کی دیواروں کے ساتھ کان لگا کر معلوم کرتے کہ کہیں وہاں سے میوزک کی آواز تو نہیں آرہی ہے۔

ایسا کئی دفعہ ہوا ہے کہ طالبان نے لوگوں کے گھروں میں گھس کر ٹیپ یا ٹیلی ویژن کو توڑا ہے۔ اس بار یہاں طالبان نظر نہیں آرہے ہیں اس لیے میں نے آج اپنا ٹیپ ریکارڈر نکال کر منی بیگم کی غزلیں سنیں۔

جمعہ، چوبیس جولائی: ’طالبان کی سکول میں نہ پڑھانے کی دھمکی‘

سنا ہے کہ حکومت نے کہا ہے کہ یکم اگست سے سوات کے تمام سکول کھل جائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ وہ دن کب آئے گا جب میں اپنے آفس میں بیٹھی ہوں گی۔ پچھلے سال جب طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تو اس سے چند دن پہلے انہوں نے مجھے بھی سکول میں نہ پڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

امی نے کہا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور جس دن مرنا ہوگا تو مرجاؤگی

ایک دن انہوں نے میرا پیچھا بھی کیا لیکن میری امی نے مجھ سے کہا کہ تم نے ہر صورت سکول جانا ہے۔ امی نے کہا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور جس دن مرنا ہوگا تو مرجاؤگی۔ امی نے میرا حوصلہ بڑھایا اور میں نے بھی سکول جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس بار تو حالات ٹھیک معلوم ہو رہے ہیں، اگر طالبان کی طرف سے مجھے پھر سے ویسے ہی دھمکی ملتی ہے تب بھی میں بچیوں کو پڑھانے سکول ضرور جاؤں گی۔

سنیچر، پچیس جولائی: ’خواتین برقعے کے بغیر بازار میں‘

آج میں اپنی بہن کے گھر گئی تھی۔ ہمارے علاقے میں سبزیوں کا ایک چھوٹا سا بازار ہے۔ راستے میں میں نے خواتین کو برقعہ کے بغیر جاتے ہوئے دیکھا۔ دو ماہ پہلے تو کوئی بھی عورت بغیر برقعہ پہنے گھر سے نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اگر وہ نکل بھی جاتی تو ان میں سے بعض کو طالبان نے ’سزائیں‘ دیں۔ اس سے بھی عجیب بات یہ تھی کہ مرد بھی بڑی حیرت سے ان خواتین کو دیکھ رہے تھے۔

پہلے ہم اپنی گفتگو میں طالبان اور فوجیوں کا ذکر زیادہ کیا کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے کیونکہ ہرشخص اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہر کوئی کاروبار دوبارہ شروع کرنے اور کھانے پینے کی اشیاء ڈھونڈنے کی فکر میں مبتلا ہوتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔