
ارومچی شہر کے پچاس مقامات پر بیک وقت شروع کیے جانے والے فسادات میں ایک سو ستانوے افراد ہلاک ہوئے
چین نے مغربی صوبے سنکیانگ میں علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لئے تعاون فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے حکومت چین کے خصوصی نمائندے ژوگانگ نے ہفتہ کو یہاں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مدد کرکے پاکستان اور اس کے عوام نے چین کے ساتھ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔
مسٹر ژوگانگ نے بتایا کہ وہ خصوصی طور پر حکومت اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں جنہوں نے چین کی جلا وطن رہنما رابیعہ قدیر کی جماعت ورلڈ اوگرز کانگریس کے چند علیحدگی پسندوں کے خونی فسادات کو کنٹرول کرنے میں ان کی مدد کی۔ تاہم چینی نمائندے نے اس حمایت کی نوعیت واضح نہیں کی ہے۔
مسٹر ژوگانگ علاقائی ممالک کا دورہ کرکے انہیں سنکیانگ کے حالات و واقعات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ جولائی کو ارومچی شہر کے پچاس مقامات پر بیک وقت شروع کیے جانے والے فسادات میں ایک سو ستانوے افراد ہلاک جبکہ سول سو افراد زخمی ہوئے۔ یہ فسادات اٹھارہ روز تک جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تین عناصر، دہشت گرد، انتہا پسند اور علیحدگی پسند ان واقعات کے ذمہ دار تھے جن کا مقصد سکنکیانگ کو چین سے علیحدہ کرنا تھا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات مکمل قابو میں ہیں۔
اس سے قبل چینی نمائندے نے خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر کے ساتھ ملاقات بھی کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر مزید غور ہوا۔
بعض حلقوں کے خیال میں سنکیانگ کے فسادات وہاں کی مسلم اقلیت کا ان پر ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج تھا۔ اسی بابت بعض حلقے پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک پر اس موقع پر اس اقلیت کے حق میں سرد مہری کا الزام عائد کرتے ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔