
بجلی کے ضیاع پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے:راجہ پرویز اشرف
وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پانچ سو میگا واٹ بجلی کے نظام میں شامل ہونے سے لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے جبکہ لائن لاسز پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاہم ملک کے مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لوڈشیڈنگ کے دورانیے کوئی واضح کمی نہیں ہوئی ہے اور بجلی کا بحران بدستور جاری ہے۔
اسلام آباد میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قائم وزراء کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ سو میگا واٹ بجلی میں سے تین سو میگا واٹ بجلی آئی پی پیز کی جانب سے ، ایک سو میگا واٹ ڈیموں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اور ایک سو میگا واٹ جینکو سے آئی ہے۔
صدر آصف زرداری نے بھی گزشتہ روز آئی پی پیز یعنی بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ اجلاس کے بعد کہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ اس سال کے آخر تک ختم ہونی چاہیے۔
راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی کھپت اور پیداوار کا فرق ڈھائی ہزار میگا واٹ سے تین ہزار میگا واٹ تک رہا ہے تاہم اس کے باوجود کہیں زبردستی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں ایسے حادثے ہوئے ہیں جس وجہ سے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تئیس جون سے تئیس جولائی تک ملک بھر میں بجلی کے آٹھ کھمبوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے اور جب ماہرین مرمت کے لیےگئے تو وہاں دوبارہ دھماکے ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعات کہاں پیش آئے۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں بلوچستان کے متعدد علاقوں خصوصاً کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں بجلی کے کھمبوں کو دھماکے سے تباہ کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بلنگ کے نظام کو بہتر کیا گیا ہے اور اب کسی کو یہ شکایت نہیں ہو گی کہ انہوں نے بجلی کم استعمال کی ہے اور بل زیادہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کمیٹی کے اجلاس میں اس بارے میں تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے اور اراکین نے بلوں میں غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق بجلی کے نظام کو بہتر کیا جا رہا ہے اور جو اہلکار بد عنوانی میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس کے علاوہ لائن لاسز یعنی بجلی کے ضیاع پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار مناءرانا کے مطابق وسطی پنجاب میں ہونے والی حالیہ بارشوں سے موسم اگرچہ کافی خوشگوار ہو گیا ہے اور تپش کے علاوہ حبس میں بھی کمی نےگرمی اور لوڈ شیڈنگ سے بے حال شہریوں کو راحت بخشی ہے لیکن موسم کی اس تبدیلی نے لوڈ شیڈنگ کے شیڈول میں کوئی خاص فرق نہیں ڈالا ہے۔ لاہور میں چند پوش علاقوں میں ضرور لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں دو تین گھنٹی کی کمی ہوئی لیکن شہر کے اکثر علاقوں میں لوڈشیڈنگ اپنے پرانے حساب سے ہوتی رہی۔ کچھ علاقوں میں آٹھ اور کچھ میں دس گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ رہی جبکہ بارش کے سبب بجلی کے نظام میں خرابی سے نشیبی اور اندرون شہر کے کچھ علاقوں میں کافی دیر بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں بھی جمعہ کو موسم کافی خوشگوار رہا تاہم وہاں بھی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ جڑانوالا روڈ پر کچھ آبادیوں میں بارش کے سبب رات کو بجلی کا نظام خراب ہونے سے زیادہ دیر بجلی غائب رہی۔گوجرانوالا میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں تو کمی دیکھنے میں نہیں آئی تاہم گوجرانوالا کے ایک رہائشی محمد بشیر کے مطابق’موسم نے یہ اثرات چھوڑے کہ وہ بجلی جو بناء کسی اوقات کار کے کئی کئی گھنٹے غائب رہتی تھی موسم بہتر ہونے سے ایک نظام الاوقات کے تحت جانے لگی اور اب ہمیں لگتا ہے کہ بجلی گئی ہے تو آ بھی جائے گی‘۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق کراچی میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہونے والی ہلکی بارش کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ تاہم کے ای ایس سی کے ترجمان کے مطابق یہ تعطل لوڈشیڈنگ کا نتیجہ نہیں ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ترجمان عائشہ اعرابی کے مطابق شہر کے گیارہ سو میں سے سات فیڈرز ٹرپ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے گذری، لیاری، گلشن حدید، اورنگی ٹاؤن اور صنعتی علاقے سائیٹ میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ان کے مطابق کے ای ایس سی کا عملہ تنصیبات میں پیدا ہونے والے نقائص کو دور کرنے کے لئے کام کررہا ہے اور جلد ہی ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کردی جائے گی۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ جمعہ کو شہر میں بجلی کی طلب نو سو پینتالیس میگاواٹ ہے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔ تاہم صدر سمیت شہر کے تقریباً تمام علاقوں سے بجلی کی دو سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں بجلی کی مانگ پندرہ ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہے جبکہ اس وقت بارہ ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی دستیاب ہے۔ بجلی کے اس بحران پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران واپڈا کے دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ ایک ریل گاڑی کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔