
’واپسی کا عمل انتظامی معاملات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا‘
صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین میں سے سوات سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی واپسی انتظامی صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایک دن کےلیے موخر کر دی گئی ہے۔ تاہم ضلع بونیر کے متاثرین کی رضاکارانہ واپسی جاری ہے۔
پشاور میں ایمرجنسی رسپانس یونٹ کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دس دن پہلے مالاکنڈ متاثرین کی واپسی شروع ہوئی تھی اور اس دوران ہزاروں خاندان اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دن سے سوات مالاکنڈ سڑک پر ٹریفک کا رش بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے گھنٹوں سڑکیں بند رہتی تھیں جبکہ انتظامی صورتحال بھی ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے واپس جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک دن کےلیے سوات متاثرین کی واپسی موخر کی گئی ہے تاکہ جو لوگ پہلے سے وہاں پہنچے ہوئے ہیں انہیں بھی متعلقہ علاقوں تک باحفاظت پہنچایا جا سکے۔
تاہم ترجمان نے کہا کہ ضلع بونیر کی متاثرین کی واپسی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور جمعرات کو بھی مختلف کیمپوں سے لوگوں اپنے اپنے علاقوں کو روانہ کر دیے گئے ہیں۔ عدنان خان نے مزید بتایا کہ اب تک تین پناہ گزین کیمپ متاثرین سے مکمل طور پر خالی کروا کر بند کر دیےگئے ہیں جن میں شیخ شہزاد، شیخ یاسین اور مزدور آباد تخت بھائی کیمپ شامل ہیں۔
ان کے مطابق ان تین کیمپوں اور دیگر کیمپوں سے تقریباً ساٹھ ہزار خاندان اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین کی ایک اچھی تعداد اپنے طور پر بھی جنگ سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ایک بڑی تعداد تاحال مختلف کیمپوں اور سکولوں میں رہائش پذیر ہے۔
دوسری طرف سوات کے صدر مقام مینگورہ میں زیادہ تر بازار اور تجارتی مراکز کھول گئے ہیں جبکہ روزمرہ معمولات زندگی بھی آہستہ آہستہ بحال ہو رہے ہیں۔
© MMIX