آخری وقت اشاعت:  Thursday, 23 july, 2009, 08:57 GMT 13:57 PST

فضل اللہ کا پیغام ، پانچ افراد کی معافی

مولانا فضل اللہ

حکومت کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران مولانا فضل اللہ زخمی ہو گئے ہیں

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کی فوجی کارروائی میں زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد طالبان کی طرف سے پہلی مرتبہ میڈیا کو ان کی آواز میں ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں اے این پی کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور اور مسلم لیگ (قاف) کے صوبائی صدر امیر مقام سمیت پانچ افراد کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بیان کب ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

سوات طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے جمعرات کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے موبائل فون میں پہلے سے ریکارڈ شدہ مولانا فضل اللہ کا ایک پیغام سنایا۔

بیان میں سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے صوبائی صدر امیر مقام، پیپلز پارٹی سوات کے ممبر قومی اسمبلی سید علاؤالدین، اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی وقار خان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما خان نواب آف شاہ ڈھرئی اور سوات کے علاقے دم غار سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت افضل خان کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے انہوں نے سوات کے عوام کو کم نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم خان نے مزید بتایا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر جنگلات واجد علی سے متعلق فیصلہ طالبان شوری میں زیرغور ہے جس کا آئندہ چند دنوں میں اعلان کر لیا جائے گا۔

حکومت نے بیرونی دنیا سے امداد مانگنے کےلیے مالاکنڈ کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اور انہیں کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا۔ شریعت محمدی کے نفاذ تک ان کی حکومت کے خلاف جنگ جاری رہی گی

مولانا فضل اللہ

بیان میں مولانا فضل اللہ نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے بیرونی دنیا سے امداد مانگنے کےلیے مالاکنڈ کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اور انہیں کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت محمدی کے نفاذ تک ان کی حکومت کے خلاف جنگ جاری رہی گی۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سوات طالبان کے سربراہ کا یہ پیغام کب ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

بیان میں مولانا فضل اللہ کی آواز بظاہر کمزور محسوس ہو رہی تھی۔ ان کی آواز میں وہ شدت اور جوش دیکھائی نہیں دیا جو پہلے ہونے والے انٹرویوز میں محسوس ہوتا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں جب مسلم خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے مولانا فضل اللہ کی فوجی کارروائی میں زخمی ہونے کی سختی سے تردید کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے فوج اور حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے ٹھکانے کو دو بار فوجی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے چند دن پہلے بی بی سی اردو سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ ایک فوجی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔