آخری وقت اشاعت:  Monday, 20 july, 2009, 09:03 GMT 14:03 PST

بارش کے بعد بجلی غائب

کراچی میں بارش

شہر کے نشیبی علاقوں سے مریضوں کی منتقلی میں مشکلات درپیش ہیں

کراچی میں سنیچر کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے اڑتالیس گھنٹے بعد بھی شہر کے وسیع حصے میں بجلی غائب ہے جس کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق کراچی میں اس طوفانِ باد باراں کے دوران مختلف حادثات میں انتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کلِک کراچی بارش سے مفلوج، انتیس ہلاک

شہر کے بعض مقامات پر بجلی اور پانی کی بندش اور بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے خلاف اتوار اور پیر کی درمیانی شب کے علاوہ پیر کے روز بھی مشتعل لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے تاہم کے ای ایس سی کے حکام مسلسل یہی دعوٰی کر رہے ہیں کہ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔

ادھر دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کا اعزاز رکھنے والے ایدھی ویلفیر ٹرسٹ نے اپنے مرکزی دفاتر کے مقامات سے بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے اور بجلی نہ ہونے کے باعث مریضوں کو فراہم کی جانے والی ایمبولنس سروس عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

کے ای ایس سی کا اعتراف

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے عہدیداروں کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بارش کے بعد سے اب تک شہر کے بیس سے پچیس فیصد علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ بارش کے نتیجے میں بجلی کی تنصیبات میں پیدا ہونے والے نقائص ہیں۔

کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید اسماعیل اور چیف آپریٹنگ آفیسر جان عباس زیدی نے بتایا کہ بعض علاقوں میں بجلی سے محروم مشتعل لوگوں نے کے ای ایس سی کے عملے پر حملے کئے ہیں جس کی وجہ سے مرمت کے کام میں دشواری پیش آرہی ہے۔

صحافیوں کے بارہا اصرار کے باوجود کے ای ایس سی کے افسران نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ شہر میں کب تک بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔ احمد رضا

ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کے قمر پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹاور کے علاقے میں ان کے ایمبولینس سینٹر اور وائرلیس کنٹرول روم کے اندر اور اطراف بارش کا پانی کھڑا ہے اور سنیچر کی صبح سے بجلی بھی بند ہے جس کی وجہ سے انہیں مریضوں کو دی جانے والی ایمبولینس سروس عارضی طور پر معطل کرنا پڑی ہے تاہم ادارے نے اپنی ہنگامی ایمبولینس سروس جاری رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹاور سینٹر اور کنٹرول روم میں ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالا ہے لیکن آس پاس دو سے تین فٹ پانی جمع ہوا ہے اور جب کوئی گاڑی گزرتی ہے تو پانی پھر اندر داخل ہوجاتا ہے جبکہ تین دن سے بجلی بھی نہیں ہے جس سے ہمارا وائرلیس سسٹم بھی بند ہوگیا ہے اور پورے شہر میں کسی بھی سینٹر سے رابطہ نہیں ہے جس کی وجہ سے کافی مشکلات ہورہی ہیں‘۔

کراچی میں بارش

شہر کے بعض علاقے تاحال بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں

انہوں نے بتایا کہ بارش کے دوران اور اس کے بعد بھی ایدھی کے رضاکار فور بائی فور گاڑیوں کے ذریعے چوبیس گھنٹے ایمرجنسی سروس فراہم کر رہے ہیں۔

بارش کے تیسرے دن شہر کی زیادہ تر مرکزی شاہراہوں اور کاروباری علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے پیر کو ٹریفک قدرے معمول کے مطابق ہے لیکن میٹھادر، کھارادر، لیاری، گلشن حدید، گلستان جوہر، بلدیہ ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی سمیت شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی بدستور گلیوں میں جمع ہے جس سے لوگوں کو آمدورفت میں سخت پریشانی پیش آ رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سنیچر کو چوبیس گھنٹے کے دوران دو سو پینتیس ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل کراچی میں سب سے زیادہ بارش انیس سو ستتر میں دو سو سات ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی انتظامیہ نے اتوار کی شام دعوی کیا تھا کہ شہر کے زیادہ تر حصوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے لیکن اس کے برعکس محمود آباد، گارڈن ایسٹ، منظور کالونی، گلشن حدید سمیت شہر کے کئی علاقوں میں اڑتالیس گھنٹوں سے بجلی بند ہے جس کی وجہ سے پینے کے پانی کی فراہمی بھی معطل ہے اور ان علاقوں کے مکینوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی بلدیاتی انتظام کے لحاظ سے کئی حصوں میں تقسیم ہے۔ شہر کا تینتیس فیصد علاقہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ٹاؤنز انتظامیہ کے ماتحت ہے جبکہ باقی ماندہ علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، چھ کنٹونمینٹ بورڈز، سائٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم کے زیر انتظام ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔