Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 20 july, 2009, 12:45 GMT 17:45 PST

’ایمرجنسی عدلیہ کی کمزوری کے باعث لگی‘

چیف جسٹس

’یہ دو ججوں کی برطرفی یا افتخار (چیف جسٹس) کا نہیں بلکہ آئین کے تحفظ کا معاملہ ہے۔‘ چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ تین نومبر کی ایمرجنسی عدلیہ کی کمزوری کے باعث لگائی گئی اگر اس روز تمام جج صاحبان کردار کا مظاہرہ کرتے تو قوم کو وہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔

یہ ریمارکس چیف جسٹس نے سندھ ہائیکورٹ کے دوسابق جج صاحبان کی اپنے عہدوں پر بحالی کے حوالے سے دائر کردہ آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

ان جج صاحبان نے تین نومبر کے روز عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا جس کے بعد انہیں معزول قرار دے دیا گیا تھا۔

جسٹس ظفر احمد خان شیروانی اور جسٹس عبدالرشید کلہوڑ نے اپنی درخواست میں تین دسمبر دو ہزار سات کو جاری ہونے والے اس صدارتی حکم نامے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو حلف نہ لینے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو معزول قرار دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بنچ کے سامنے سوموار کے روز ان دو ججوں کی بحالی کی درخواستوں نے عملاً تین نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف مقدمے کی صورت اختیار کر لی۔

جج صاحبان نے سینئر وکیل اکرم شیخ کی پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کو کام کرنے سے روکنے کے لیے پہلے سے دائر کردہ پٹیشن بھی ان کی درخواست پر اسی مقدمے کا حصہ بنا دی۔

اگر اس روز عدلیہ مضبوط کردار کا مظاہرہ کرتی تو ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ یہ ہماری اپنی غلطی ہے لہٰذا ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا پڑے گا۔ اگر عدلیہ کے ارکان سن انیس سو بہتر میں درست فیصلہ کر لیتی تو پانچ برس بعد وزیراعظم کے خلاف مقدمہ نہ چلانا پڑتا۔ اس کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر آیا جس نے پھر وزیراعظم کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ اس ساری صورتحال میں عدلیہ کو اب اپنا آپ منوانا ہوگا۔

جسٹس افتخار چوہدری

چیف جسٹس نےاٹارنی جنرل اور دیگر وکلاء اور عدالتی عملے سے کہا کہ وہ اس مقدمے کی جلد از جلد سماعت مکمل کرنے میں عدالت کی مدد اور راہنمائی کریں کیونکہ ’ہم سب کو مل کر طے کرنا ہے کہ اس مسئلے کا کیا کرنا ہے کیونکہ یہ دو ججوں کی برطرفی یا افتخار (چیف جسٹس) کا نہیں بلکہ آئین کے تحفظ کا معاملہ ہے۔‘

واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ میں ایک بھی ایسا جج شامل نہیں ہے جس نے تین نومبر کو جاری ہونے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لیا ہو۔

عدالت کے کہنے پر پٹیشنر سابق ججوں کے وکیل رشید اے رضوی نے تین نومبر کا ایمرجنسی کے نفاذ کا حکم نامہ اور اس روز صدر جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن پڑھ کر سنایا۔

اس دوران بینچ میں شامل متعدد جج صاحبان نے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے بارے میں منفی ریمارکس دیے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ یہ بہت افسوس ناک دن تھا۔’ اگر اس روز عدلیہ مضبوط کردار کا مظاہرہ کرتی تو ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ یہ ہماری اپنی غلطی ہے لہذا ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا پڑے گا۔ اگر عدلیہ کے ارکان سن انیس سو بہتر میں درست فیصلہ کر لیتی تو پانچ برس بعد وزیراعظم کے خلاف مقدمہ نہ چلانا پڑتا۔ اس کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر آیا جس نے پھر وزیراعظم کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ اس ساری صورتحال میں عدلیہ کو اب اپنا آپ منوانا ہوگا۔اگر عدلیہ مستقبل میں ثابت قدم رہی تو ملک میں جمہوری نظام چلتا رہے گا۔‘

بینچ میں شامل جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ ایمرجنسی کے بعد کی گئی تقریر میں فوجی سربراہ نے بارہ وجوہات گنوائیں جن میں سے نو عدلیہ کے خلاف تھیں۔ ’یہ ایمرجنسی دراصل براہ راست عدلیہ کے خلاف اقدام تھا۔ بد قسمتی سے اس روز ججوں پر یکطرفہ الزامات لگائے گئے اور سپریم کورٹ کے ان ججوں نے بھی ان کا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کی جو ایمرجنسی کے بعد بھی عدالت میں موجود تھے۔‘

جسٹس خلیل رمدے نے کہا کہ یہ حکم نامہ ’عدلیہ کی آزادی بذریعہ ججوں کی برطرفی‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ فرد واحد نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ایسے اداروں کو اس فعل میں ملوث کر لیا جو ملکی دفاع کے لیے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ملک پاکستان کو پہنچایا جانے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ذاتی مفاد اور ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نعرے میں بہت فرق ہے۔ ’ایمرجنسی اس لیے نافذ کی گئی کہ حکومت عدلیہ کو اپنی خواہش کے مطابق چلانا چاہتی تھی۔‘

جسٹس جاوید اقبال

ذاتی مفاد اور ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نعرے میں بہت فرق ہے۔ جسٹس جاوید اقبال

چیف جسٹس نے کہا کہ ان ججوں کا جرم کیا تھا جنہیں معزول قرار دیا گیا۔ ’چھ اکتوبر تک معاملات ٹھیک چل رہے تھے اس روز کے اخباری بیانات بھی اس بات کے گواہ ہیں۔ پھر سترہ اکتوبر کو سپریم کورٹ میں صدر مملکت کی انتخابی اہلیت سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو وزراء نے کہنا شروع کر دیا کہ ایمرجنسی پلس آنے والی ہے۔‘

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ایمرجنسی آرڈر کے الفاظ بھی بہت معنی خیز ہیں لہٰذا ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ یہ حکم نامہ کس نے تیار کیا تھا۔

پٹیشن کے قانونی نکات پر بات کرتے ہوئے پٹیشنرز کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ ان کے مؤکلوں کو تین دسمبر کے صدارتی حکم نامے کے ذریعے پی سی او پر حلف نہ لینے کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ لہٰذا اس تین دسمبر کے حکم کو آئین سے متصادم ہونے کے باعث غیر مؤثر قرار دیا جائے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے رشید رضوی سے دریافت کیا کہ کیا آپ آئین میں تین نومبر کی ایمرجنسی کو تحفظ دینے والی آئینی شق کو بھی غیر آئینی قرار دالوانا چاہتے ہیں تو فاضل وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔

رشید اے رضوی کا استدلال تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ان کے مؤکلوں کی تقرری کی سمری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ارسال کی تھی جو انہوں نے مسترد کر دی۔ رشید رضوی کا کہنا تھا کہ اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر آئینی نہیں بلکہ عملی چیف جسٹس تھے لہذا ان کے حکم کو منسوخ کیا جائے۔

اس پر جسٹس عثمانی نے رشید رضوی سے دریافت کیا کہ کیا موجودہ حکومت بھی آپ کے کہنے کے مطابق جسٹس ڈوگر کو آئینی چیف جسٹس نہیں سمجھتی تو انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سترہ مارچ دو ہزار آٹھ کو جو حکم نامہ جاری کیا تھا اس کے مطابق تو جسٹس ڈوگر آئینی چیف جسٹس نہیں ہیں۔

جسٹس خلیل رمدے نے کہا کہ ایمرجنسی سے پہلے یا بعد میں، اس ملک میں صرف ایک ہی چیف جسٹس رہے ہیں اور وہ ہیں جسٹس افتخار چوہدری۔

جسٹس عثمانی کا کہنا تھا کہ ان سب معاملات پر موجودہ حکومت کا مؤقف بھی سامنے آنا چاہئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور دیگر وکلا اور عملے سے کہا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کی مدد کریں۔

اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ وہ کل مصروف ہیں لہٰذہ مقدمے کی سماعت کل نہ کی جائے۔

جسٹس افتخار نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم قومی مسئلہ ہے اور اس مقدمے کو ہم سب کو مل کر طے کرنا ہے۔مقدمے کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہے گی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔