
ان کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ چکے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق جیٹ طیاروں نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں دو خواتین سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار مشتبہ عسکریت پسند بتائے جاتے ہیں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح لڑاکا طیاروں نے اپراورکزئی ایجنسی کے تحصیل غلجو کے علاقے ماموں زئی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے دو مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری میں کم سے کم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں چار شدت پسند شامل ہیں جبکہ پانچ افراد زخمی ہیں۔ ان کے مطابق شیلنگ میں طالبان کے دو مراکز اور گیارہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بمباری میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے علاقائی کمانڈر مولانا امین اللہ کے مکان اور قریبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں مولانا امین اللہ کے مکان میں موجود دو خواتین بھی ہلاک ہوگئیں۔مقامی لوگوں کے مطابق بمباری میں ایک مکان اور طالبان کے دو مراکز مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔
اورکزئی ایجنسی اور دوسرے قبائلی علاقوں میں فضائی کارروائیاں گزشتہ دو تین مہینوں سے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بھی اورکزئی ایجنسی کے علاوہ جنوبی وشمالی وزیرستان مہمند اور باجوڑ میں کئی بار بمباری کی گئی تھی جس میں زیادہ تر عام شہری مارے گئے تھے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ کر قریبی شہروں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک؛ بنوں، ہنگو وغیرہ کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
© MMX