Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 18 july, 2009, 08:40 GMT 13:40 PST

اورکزئی ایجنسی میں فضائی بمباری

تباہ شدہ عمارت

ان کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق جیٹ طیاروں نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں دو خواتین سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار مشتبہ عسکریت پسند بتائے جاتے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح لڑاکا طیاروں نے اپراورکزئی ایجنسی کے تحصیل غلجو کے علاقے ماموں زئی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے دو مراکز کو نشانہ بنایا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری میں کم سے کم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں چار شدت پسند شامل ہیں جبکہ پانچ افراد زخمی ہیں۔ ان کے مطابق شیلنگ میں طالبان کے دو مراکز اور گیارہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بمباری میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے علاقائی کمانڈر مولانا امین اللہ کے مکان اور قریبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں مولانا امین اللہ کے مکان میں موجود دو خواتین بھی ہلاک ہوگئیں۔مقامی لوگوں کے مطابق بمباری میں ایک مکان اور طالبان کے دو مراکز مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی اور دوسرے قبائلی علاقوں میں فضائی کارروائیاں گزشتہ دو تین مہینوں سے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بھی اورکزئی ایجنسی کے علاوہ جنوبی وشمالی وزیرستان مہمند اور باجوڑ میں کئی بار بمباری کی گئی تھی جس میں زیادہ تر عام شہری مارے گئے تھے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ کر قریبی شہروں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک؛ بنوں، ہنگو وغیرہ کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔