Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 18 july, 2009, 14:17 GMT 19:17 PST

سندھ: متاثرین کو واپس بھیجنے کا اعلان

صوبائی وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا

’متاثرہ افراد کی واپسی اگلے ہفتے کے دوران شروع کردی جائے گی‘

صوبہ سندھ کی حکومت نے کراچی سمیت سندھ بھر میں مقیم مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے حکومت نے دس کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

یہ بات صوبائی وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایک نیوز کانفرنس میں سنیچر کے روز وزیراعلٰی ہاؤس میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ آپریشن سے متاثر ہونے والے افراد کی واپسی اگلے ہفتے کے دوران شروع کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں آنے والے زیادہ تر متاثرین کراچی میں مقیم ہیں۔ انہوں نےکہا کہ کراچی کے مضافات میں حکومت نے متاثرین کی عارضی رہائش کے لیے سوا چار سو کیمپ لگائے تھے تاہم وہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد قیام پذیر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مالاکنڈ متاثرین کو رجسٹر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں تقریباً پچاس ہزار متاثرین آئے ہیں اور ان میں سے نوے فیصد یعنی پینتالیس ہزار کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ ان کے بقول بہت کم افراد حکومت کی جانب سے لگائے گئے کیمپوں میں قیام پذیر ہیں اور زیادہ تر افراد اپنے رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا کہ حکومت نے تمام رجسٹر شدہ افراد کی واپسی کا انتظام کیا ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو یہاں سے ان کے گھروں تک چھوڑ کر آئے گی۔ ان کے بقول مالا کنڈ متاثرین کی واپسی پر دس کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سے زیادہ تر امداد وفاقی حکومت نے مہیًا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ متاثرین کی واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں صوبائی وزیرمحنت امیر نواب، وزیراعلٰی کے مشیر وقار مہدی، خود وزیرداخلہ اور دیگر شامل ہوں گے۔

سندھ میں کئی قوم پرست جماعتوں کے علاوہ متحدہ قومی مومنٹ کو بھی مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد پر تحفظات تھے تاہم متاثرین کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرنے والی کمیٹی میں ایم کیو ایم کی نمائندگی نہیں ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اس جانب توجہ مبذول کرانے پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہے اور اس کا اہم حصہ ہے اور اس طرح وہ بھی اس تمام کارروائی میں شامل ہے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی روک تھام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسے ختم کرنے کے لیے کوئی آن یا آف کا بٹن نہیں ہے کہ جسے دبا کر آف کردیا جائے تو یہ ختم ہوجائے گی، حکومت اس سلسلے میں اقدامات کررہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے انسانی حقوق کمیش کی رپورٹ کے مطابق اس سال پہلے چھ ماہ کے دوران ایک سو سیاسی کارکنان کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کے مطابق اس سال پہلے چھ ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اکانوے سیاسی کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔