Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 17 july, 2009, 15:13 GMT 20:13 PST

زرداری، نواز میں آٹھ ماہ بعد ملاقات

نواز، زرداری

صدارتی ترجمان کے مطابق ملاقات کا فیصلہ ٹیلی فون پر گفتگو کے دروان کیا گیا تھا

لاہور کے رائے ونڈ فارم ہاؤس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف سے چار گھنٹے طویل ملاقات کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات کے ایک سے زیادہ دور ہوئے اور دونوں رہنماؤں نے بندکمرے میں ون ٹو ون ملاقات بھی کی۔

دونوں راہنماؤں میں آٹھ مہینے کے بعد پہلا براہ راست رابطہ ہے اور سیاسی حلقے اسے ملک کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان برف پگھلنے سے تعبیر کررہے ہیں۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق اس ملاقات کا فیصلہ پیر کو دونوں راہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو میں کیا گیا تھا۔

صدر آصف زراداری کے ہمراہ آنے والوں میں سنیٹر رضا ربانی، وفاقی وزیر بابراعوان، راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ، فرحت اللہ بابر، جہانگیر بدر اور نذر گوندل شامل تھے۔ جبکہ مسلم لیگ نون کی جانب سے شہبازشریف، راجہ ظفر الحق، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، سردار ذوالفقارعلی کھوسہ، پرویز رشید، سید غوث علی شاہ، مہتاب عباسی اور سردار یعقوب ناصر نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

دنوں جماعتوں کی لیڈر شپ میں ہونے والی یہ ایک ایسی ملاقات تھی جس کا نہ تو کوئی ایجنڈا جاری کیا گیا اور نہ ہی میڈیا کو بریفنگ دی گئی البتہ گیارہ نکات پر مشتمل ایک ایسا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کوئی ایسی شق یا نکتہ شامل نہیں ہے جسے موجودہ سیاسی حالات میں نیا کہا جاسکے۔

ان گیارہ نکاتی اعلامیہ کی پہلی تین شقوں میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں کون کون شامل تھا اور یہ کہ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کا نتیجہ ہے۔

باقی آٹھ نکات میں میثاق جمہوریت پر عملدرآمدکرتے ہوئے آئین سے غیر جمہوری شقوں کو نکالنے بلوچستان کے مسئلہ کے حل، ملکی سالمیت، مہنگائی اور توانائی کے بحران سمیت دیگر مسائل سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور ملاقاتوں کاسلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔