Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 15 july, 2009, 02:48 GMT 07:48 PST

کراچی تا سوات، متاثرین کی مشکل

باچا خان مرکز

کراچی میں اے این پی کے دفتر کے باہر بینر

ملک کے شمالی علاقوں میں لڑائی سے کراچی پہنچنے والے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا ہے۔ نہ تو کسی سیاسی جماعت اور نہ ہی حکومت متاثرین کی واپسی کے لیے ان کی مدد کے لیے سامنے آئی ہے۔

شہر کے علاقے بنارس سے سوات اور بونیر جانے والی بسوں کے دو درجن سے زائد سٹاپ موجود ہیں جہاں تین گھنٹے سے زائد وقت تک موجود رہنے کے باوجود سوات یا بونیر کا کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا جو واپسی کے لیے یہاں ٹکٹ لینے کے لیے آیا ہوا۔

اختر ڈیلکس کوچ براہ راستہ پشاور بونیر جاتی ہے۔ اس کے مینیجر شوکت نے بتایا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لیے وہاں کون جائے گا۔ تاہم معصوم کوچ کے مینیجر اکبر علی کا موقف تھا کہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ اس سے پہلے و ہ دو بار گئے تھے مگر انہیں واپس آنا پڑا ہے۔

ان کے مطابق لوگ بیس جولائی تک انتظار کریں گے اس کے بعد حالات کا اندازہ ہوجائے گا جس کے بعد ہی واپسی کا فیصلہ کریں گے۔ جبکہ شاہد کوچ کے مینیجر جاوید کا کہنا ہے کہ فی الحال مردان اور صوابی سے لوگ جا رہے ہیں۔ انہیں سرکاری گاڑیوں سے وہاں پہنچایا جا رہا ہے، وہاں پرائیوٹ گاڑیاں آگے جانے دیں یا نہیں اس لیے یہاں سے لوگ نہیں جا رہے۔

بس سٹینڈ

کراچی سے شمالی علاقوں کو جانے کے لیے بس سٹینڈ

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں بھی ایک سے دو سو روپوں کا اضافہ کردیا ہے۔ سوات کوچ کے مینجر بابر خان کا کہنا ہے چودہ سو رپے کرائے کے باوجود نقصان ہوتا ہے کیونکہ سوات اور بونیر میں ڈیزل بہت مہنگا ہے اور وہاں سے کوئی یہاں آتا نہیں ہے اس لیے کرایہ بڑھے گا ۔ان کے مطابق پچھلے دو ماہ تو بلکل کاروبار بیٹھ گیا تھا۔

متاثرین کی سندھ آمد کے موقع پر قوم پرست جماعتوں نےخدشات کا اظہار کیا تھا اور کئی بار ہڑتالیں اور مظاہرے کیے ۔عوامی نیشنل پارٹی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ صورتحال معمول پر آتے ہی انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکز سے بتایا گیا کہ صوبائی صدر شاہی سید دبئی اور سیکریٹری امین خٹک اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور گئے ہوئے ہیں۔ حفیظ الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے دس ہزار خاندانوں کو رجسٹر کیا تھا ۔

ان کے علم کے مطابق اب تک کوئی واپس نہیں گیا ہے ، صرف حیدرآباد سے کچھ لوگ گئے ہیں۔

باچا خان مرکز کے باہر ایک بینر لگا ہوا ہے جس پر تحریر ہے کہ امداد کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، مگر اس کے باوجود محمد وزیر نامی ایک شخص مدد کے لیے یہاں پہنچا تھا جس نے بتایا کہ اس کے گھر میں دس کے قریب متاثرین موجود ہیں جن کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے ۔

واپسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ختم ہوگا اور حساب کتاب ہوگا اس کے بعد ہی لوگ واپس جائیں گے ۔’پاس نقد پیسہ نہیں ہے گھر تو اجڑ گیا، سامان بھی وہاں رہ گیا، حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔