
’ابتدائی دن کافی مشکل میں گزرے لیکن پھر آہستہ آہستہ ہم عادی ہوگئے تھے‘
مالاکنڈ میں فوجی کارروائی کے دو ماہ قبل آغاز سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے خطرے کو خیمہ بستیوں کی تکالیف پر ترجیح دی۔
ان میں ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کے فضلِ معبود بھی ہیں جن کا تمام خاندان شہر میں ان مشکل دو ماہ میں موجود رہا۔ اس دوران ان پر کیا بیتی یہ انہوں نے ہمارے ساتھی ہارون رشید سے بات چیت کے دوران بتایا۔
’میرے والدین اور بہن بھائی سب ادھر ہی رہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کے جب قصے سنتے تھے، جس حال میں یہاں سے وہ گئے، ان کو گاڑیاں نہیں ملیں، پھر عورتوں اور بڑے بوڑھوں کے ساتھ اس طرح نکلنا بڑا مشکل تھا۔
ابتدائی چند دن کافی مشکل میں گزرے لیکن پھر بعد میں آہستہ آہستہ ہم عادی ہوگئے تھے۔ پہلے بجلی چلی گئی، اس کے بعد آہستہ آہستہ گیس بھی چلی گئی اور پھر ٹیوب ویل بھی بند ہو گئے۔ وہ ابتدائی دن بڑے اذیت والے تھے۔
پہلے بجلی چلی گئی، اس کے بعد آہستہ آہستہ گیس بھی چلی گئی اور پھر ٹیوب ویل بھی بند ہو گئے۔ وہ ابتدائی دن بڑے اذیت والے تھے۔
فضل معبود
فوج نے مینگورہ شہر خالی کرنے کے لیے ویسے تو نہیں کہا تھا۔ انہوں نے آس پاس کے قمبر، چہار باغ یا خوازہ خیلہ اور کریم آباد جیسے علاقے خالی کروائے تھے۔ تو ہم نے سوچا کہ جب خالی نہیں کروائے جا رہے تو ہم کیوں چھوڑ دیں۔
جو سب سے زیادہ مشکل وقت تھا وہ وہ دو دن تھے جب یہاں زمرد کی کانوں پر لڑائی ہوئی تھی۔ (یہ کانیں ان کے محلے کے قریب واقع تھی۔) اس دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ بھی ہوتی تھی، میزائل بھی فائر ہوتے تھے، ساتھ میں مارٹر بھی مارے جاتے تھے۔ یہ بہت اذیت ناک دن تھے۔
اس دوران بچے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے تھے۔ وہ پوچھتے تھے کہ یہ آوازیں کس چیز کی ہیں۔ وہ غسل خانے میں چھپ جایا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں وہ بھی عادی ہوگئے۔ وہ یہاں تک عادی ہوگئے کہ پھر بے خوف و خطر گلی میں کھیلنے نکل جاتے تھے۔ ہم منع کرتے تو وہ بتاتے کہ یہ گن شپ نہیں سامان بردار ہیلی کاپٹر ہے۔ جس دن پھر ہیلی کاپٹر نہیں آتے تھے وہ پوچھتے تھے کہ کہاں گئے وہ کیا وہ آرام کر رہے ہیں؟
ابتدائی دنوں میں تو گھر میں جو کچھ کھانے پینے کا تھا اسی پر گزارا کیا۔ پھر لوگ یہ پہاڑ عبور کرکے بونیر کی جانب جاتے تھے اور سبزیاں اور گوشت خرید لاتے تھے۔
میرے خیال میں - - - ہم پر گزرنے والے مصائب کے ذمہ دار - - - دونوں ہیں۔ دونوں نے صبر سے کام نہیں لیا۔ قصور دونوں (حکومت اور طالبان) کا تھا۔
© MMIX