Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 14 july, 2009, 14:05 GMT 19:05 PST

مالاکنڈ متاثرین: واپسی سے انکار

فائل فوٹو

مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی کارروائی کے دوران تقریباً پچیس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی

مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد کی واپسی کے سرکاری اعلان کے باوجود مردان اور دیگر شہروں میں بنے عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر بعض افراد نے اپنے علاقوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔

مردان اور صوابی میں قائم خیمہ بستیوں میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان متاثرین نے اپنے گھروں کو واپس نہ جانے کے اپنے فیصلے کی متعدد وجوہات بیان کیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی کارروائی کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کو دو ہفتوں کے اندر اپنے گھروں میں واپس بسایا جائے گا۔

ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کی ملا بابا روڈ میں سپئر پارٹس کا کاروبار کرنے والے سرسٹھ سالہ جان محمد نے بتایا کہ ان کی دوکان تو سلامت ہے لیکن کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔’میں ابھی وہاں جا کر کیا کروں گا۔ کماؤں گا نہیں تو کھاؤں گا کہاں سے۔ یہاں پر کم از کم دو وقت کا کھانا تو مل جاتا ہے۔‘

سوات کے بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں نہیں ہے۔کیا حکومت ضمانت دے گی کہ وہاں دوبارہ طالبان کبھی نہیں آئیں گے۔ کیا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہاں اب دوبارہ لڑائی نہیں شروع ہو گی؟ اگر ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے تو ہم واپس کس کے آسرے پر جائیں

تاج خان

مینگورہ ہی میں تھوک مال سپلائی کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ انہیں اپنا کاروبار دوبارہ سے شروع کرنے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ ’ابھی کم از کم تین مہینے اور لگیں گے مینگورہ میں کاروباری حالات بننے میں، اس دوران میں کیا کروں گا۔ پورے گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور یہاں مزدوری کرنے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی ہے۔ ان حالات میں واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

سوات کے مختلف علاقوں میں یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والے چوبیس سالہ تاج خان نے بتایا کہ سوات کے بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں نہیں ہے۔’کیا حکومت ضمانت دے گی کہ وہاں دوبارہ طالبان کبھی نہیں آئیں گے؟ کیا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہاں اب دوبارہ لڑائی نہیں شروع ہو گی؟ اگر ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے تو ہم واپس کس کے آسرے پر جائیں؟

مینگورہ ہی کہ ایک اور رہائشی اسلم کا کہنا تھا کہ جب تک مینگورہ اور اردگرد کے تمام علاقوں سے کرفیو ختم نہیں ہو جاتا وہاں واپس جانا بیوقوفی ہے۔ ’اگر صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے تو کرفیو لگانے کی کیا ضرورت ہے؟

ضلع صوابی کے شاہ منصور کیمپ میں رہائش پذیر بونیر کے تیس سالہ خالد نے کہا کہ حکومت نے انہیں واپسی کے لیے جو پچیس ہزار روپے دینے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ جب تک مل نہیں جاتے وہ گھر کو نہیں جائیں گے۔ ’گھر میں نے کھانے کو ہے نہ دوا دارو ہے ایسے میں خالی ہاتھ گھر جانے کا کیا مطلب ہے۔ جب تک پچیس ہزار نہیں مل جاتے میں کہیں نہیں جاؤں گا۔‘

صوابی میں قائم کیمپ ریڈ کراس سوسائٹی کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ کیمپ کے انچارج ریٹائرڈ کرنل نثار خان جو قریب کھڑے یہ گفتگو سن رہے تھے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یہاں رہائش پذیر کسی بھی فرد سے واپس جانے کے لیے نہیں کہیں گے لیکن اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس جانا چاہے تو اسے روکا بھی نہیں جائے گا۔

’کوئی واپس جانا چاہے تو جائے نہ جانا چاہے تو اس کی مرضی۔ ہمارا امدادی کیمپ اس وقت تک یوں ہی چلتا رہے گا جب تک یہاں پر ایک بھی فرد موجود ہے۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔