
ملاکنڈ ڈویژن کے بےگھر افراد کی واپسی کے عمل میں تیزی آئی ہے
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے روز یعنی منگل کو مالاکنڈ ڈویژن کے بےگھر افراد کی واپسی کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
حکام کے مطابق منگل کی دو پہر تک مجموعی طور پر تقریباً گیارہ سو کے قریب خاندان واپس چلے گئے تھے اور توقع ہے کہ صرف منگل کے دن دو ہزار خاندان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے سپیشل سپورٹ گروپ کے ترجمان کرنل وسیم کا کہنا تھا کہ ’پیر کو حکومتی توقعات کے برعکس لوگوں کی واپسی کا عمل سُست رہا۔‘ ان کے مطابق پیر کو کیمپوں سے صرف ایک سو پچاسی خاندان جبکہ کیمپوں سے باہر چار سو سے زائد خاندان واپس سوات گئے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ منگل کو واپسی کا عمل تیز ہوگیا ہے اور دوپہر تک پانچ سو خاندان مالاکنڈ ڈویژن کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ آج شام تک واپس جانے والے خاندانوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔
کرنل وسیم کے مطابق واپس جانے والوں میں بڑی تعداد ان خاندانوں کی ہے جو کیمپوں سے باہر مقیم تھے اور وہ رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
واپسی کے پہلے روز لوگوں کی واپسی کے عمل کی سُست رفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے کرنل وسیم کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اب بھی سکیورٹی کے خدشات درپیش ہیں اسی لیے وہ واپس جانے سے کترا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’لیکن اب آہستہ آہستہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور وہ زیادہ تعداد میں واپس جانا چاہ رہے ہیں۔‘
منگل کو ضلع مردان کے شیخ یاسین، شیخ شہزاد، مزودر آباد اور جلالہ کیمپوں سے لوگ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بسوں اور ٹرکوں میں سوات کے لیے روانہ ہوئے۔
جانے والے خاندانوں کی واپسی کی رجسٹریشن مردان کے شیر گڑھ، جو ملاکنڈ ڈویژن کی سرحد پر واقع ہے، کے مقام پر ہوتی ہے۔ وہاں پر موجود ایک خاندان کے سربراہ فضا خان نے بتایا کہ اس وقت سو کے قریب گاڑیاں انتظار میں کھڑی ہیں لیکن رجسٹریشن کے عملے کی کمی کی وجہ سے انہیں آگے جانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
شیر گڑھ میں موجود سوات کے چار غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد ڈیزاسٹر رسپانس نیٹ ورک کے فیلڈ آفسر محمد روم کا کہنا ہے کہ واپسی میں بڑی مشکل رجسٹریشن کے سست رفتار عمل کی ہے۔ ان کے مطابق لوگوں اور گاڑیوں کی تقریباً پانچ مقامات سخاکوٹ، درگئی، ملاکنڈ، بٹ خیلہ اور لنڈاکئی پر سخت تلاشی لی جاتی ہے اور وہ شیر گڑھ سوات کی سرحد تک پہنچنے میں پانچ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ راستے میں تاخیر کی وجہ سے لوگ متبادل راستوں کے ذریعے سوات پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

رجسٹریشن کے عملے کی کمی کی وجہ سے متاثرین کے آگے جانے میں تاخیر ہورہی ہے
واپس جانے والوں کی سکیورٹی کے لیے چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں اور کیمپوں سے جانے والوں کے ہمراہ سکیورٹی کے دستے ہوتے ہیں جبکہ علاقے کی حفاظت کے لیے ہیلی کاپٹروں سے فضائی نگرانی بھی ہوتی ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تیئس جولائی تک بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کا عمل مکمل ہوجائے گا تاہم مبصرین کے بقول کیمپوں میں آباد لوگوں کی شکایات کی وجہ سے شاید مقررہ تاریخ تک واپسی کا سلسلہ مکمل نہ ہوسکے۔
زیادہ تر متاثرین کو شکایت ہے کہ انہیں وعدے کے مطابق پچیس ہزار روپے کی نقد رقم نہیں دی گئی ہے اور جنہیں رقم ویزا کارڈ کی صورت میں ملی بھی ہےں ان میں بعض کے کارڈوں میں یا تو سرے سے پیسے نہیں ہیں یا کچھ افراد کو پِن کوڈ درست نہیں بتایا گیا ہے۔
تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے بوگس رجسٹریشن کی ہے اور نادرا اس کا جائزہ لےکر تصدیق کرے گی جس کے بعد لوگوں کو رجسٹر کرکے رقم دی جائے گی۔
© MMIX