
مینگورہ پر فوج نے تیس مئی کو دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے کوئی چالیس روز بعد شہر پہنچے تو ایک مقام پر دو سو سے زائد افراد ایک لبمی قطار میں آٹے کے لیے منتظر نظر آئے۔ شہر خاموش اور پرامن تھا لیکن ادھورا بھی۔ اگرچہ حکومت کے اعلان کا انتظار کیے بغیر کئی خاندان واپس لوٹنا شروع ہوگئے ہیں لیکن ابھی بھی اس کی نوے فیصد آبادی واپس نہیں لوٹی تھی۔
شہر کے ایک کونے میں فوجی افسران شناختی کارڈ کی تصدیق کے بعد تقریباً تین سو افراد کی ایک قطار میں سے ایک ایک کو بوری آٹا جاری کر دیتے۔ کئی چھوٹے چھوٹے بچے اور عمر رسیدہ افراد بھی بوری لینے آئے ہوئے تھے۔ قطار میں لگے ایک شخص نے شکایت کی کہ دو دن تک مختلف مقامات پر آٹے کے لیے قطار میں کئی گھنٹے کے انتظار کے بعد فوجی اسے دینے سے انکار کر دیتے تھے۔ ’آج ادھر آیا ہوں تو امید ہے کہ شاید یہاں مل جائے۔ اشیاء خوردو نوش کی شدید کمی ہے اور ہم بہت مشکل سے گزارا کر رہے ہیں۔‘
مینگورہ کے بازار کرفیو میں خالی پڑے تھے۔ جگہ جگہ فوجیوں نے رسی سے راستے روک رکھے ہیں۔ بازار میں اکثر دکانیں اور عمارتیں محفوظ ہیں تاہم کئی مارکیٹوں کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے۔ بعض کو آگ سے نقصان پہنچا ہے۔ فوجی کئی عمارتوں کی دوسری یا تیسری منزل پر بیٹھے سڑکوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مینگورہ کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ اسے طالبان سے پاک کردیا گیا ہے لیکن کیا ان کی واپسی ناممکن بنا دی گئی ہے اس بارے میں کوئی بھی زیادہ یقین سے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اس بابت سکیورٹی اہلکار مقامی آبادی کے تعاون پر تکیہ کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اتنے مصائب جھیلنے کے بعد مقامی آبادی شدت پسندوں کو دوبارہ قدم جمانے نہیں دی گی۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ تالی کبھی بھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی
۔
اس دوران وہ دکانیں اور ہوٹل بھی دیکھے جو سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کا گڑھ یا حمایتی ہونے کے الزام میں بموں سے اڑا دیے تھے۔ مینگورہ کے بازار جہاں معمول کے حالات میں اس وقت سیاحوں کے بے پناہ رش کی وجہ سے تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی وہاں خاموشی اور ٹینکوں کے نشان کوئی دوسری کہانی بیان کر رہے تھے۔
ایک انگریز مفکر کے مطابق جنگ سے یہ کبھی واضح نہیں ہوتا کہ کون درست ہے بلکہ محض یہ واضح ہوتا ہے کہ کون بچ گیا ہے۔ مینگورہ کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ طالبان نہیں بچ پائے ہیں۔ ان کا کوئی نام و نشان باقی نہیں تھا۔
گرین چوک پر فلمبندی کے دوران جب اپنا نام لیا تو چوتھی منزل سے فوجیوں نے کہا کہ ’اچھا آپ ہارون ہیں بی بی سی والے۔ وہ ماہ پارہ صاحبہ کیسی ہیں؟ اس سے اندازہ ہوا کہ فوجی آج بھی ریڈیو اور بی بی سی سے جڑے ہوئے ہیں۔‘
مینگورہ کے ایک صحافی کے توسط سے ایک شخص کے پاس پہنچے اور شہر کے حالات جاننا چاہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر انہیں ہمارے آنے کا پہلے سے معلوم ہوتا تو ہم سے سبزی ٹماٹر ہی منگوا لیتے۔ چائے بسکٹ سے خاطر تواضع کی گئی اور بتایا کہ یہ بسکٹ بھی پشاور سے آنے والے کسی مہمان سے منگوائے تھے۔
ماضی کے برعکس یہ لوگ کافی مطمئن، پرامید اور نڈر نظر آئے۔ وہ طالبان کے خلاف بھی کافی کھل کر بول رہے تھے۔ انہیں امید تھی کے جس طرح سنجیدگی سے اس مرتبہ کارروائی ہوئی ہے اس سے حالات میں بہتری کا امکان زیادہ ہے۔
شہر کے اردگرد فصلوں میں کاشتکار پیاز اور آڑو کی تیار فصل بوری اور ڈبوں میں بند کرتے اور ٹرکوں پر لادتے نظر آئے۔ تاہم بعض مقامات پر گندم کی فصل جو شاید تیار ہونے کے باوجود نہ کٹ سکی بھی دیکھنے کو ملی۔
دن کے خاتمے سے قبل ہی سوات سے نکلنے کی کوشش میں اس مقام پر پہنچے جہاں دن میں آٹا تقسیم ہو رہا تھا تو وہیں فوجیوں کو ایک بغیر قمیض کے شخص کو اس کے چہرے پر چادر ڈالے لاتے دیکھا۔ تصویر بنانے کی کوشش کی تو ایک فوجی افسر ہماری جانب غصے سے لپکا اور ایسا کرنے سے منع کیا۔ کافی بحث و تقرار کے بعد تصویر شائع نہ کرنے کی یقین دہانی پر وہاں سے روانہ ہوئے۔
شہر کو اس کے مقینوں کی واپسی کا عمل بھی ایک دو روز میں باضابطہ سرکاری طور پر شروع ہو جائے گا لیکن یہاں کی رونقیں، سیاحوں کی رش اور پائیدار امن کی واپسی میں وقت لگے گا۔ یہاں امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔
مینگورہ کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ اسے طالبان سے پاک کردیا گیا ہے لیکن کیا ان کی واپسی ناممکن بنا دی گئی ہے اس بارے میں کوئی بھی زیادہ یقین سے کچھ کہہ نہیں کہہ سکتا۔ اس بابت سکیورٹی اہلکار مقامی آبادی کے تعاون پر تکیہ کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اتنے مصائب جھیلنے کے بعد مقامی آبادی شدت پسندوں کو دوبارہ قدم جمانے نہیں دی گی۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ تالی کبھی بھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔
© MMIX