Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 13 july, 2009, 11:24 GMT 16:24 PST

صحافیوں کے مکانات تباہ کرنے کی مذمت

صحافیوں کا احتجاج

پاکستان میں صحافی حکومت سے ان کے خلاف ایسے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں

پاکستان میں صحافتی تنظیموں نے مالا کنڈ ڈویژن کے علاقے بونیر میں گزشتہ چند دنوں میں دو صحافیوں کے مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی مذمت کی ہے۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دونوں صحافیوں کے مکانات کو ان کی غیرجانبدار رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

مالا کنڈ ڈویژن کے علاقے بونیر میں طالبان نے پچھلے چند دنوں میں کم از کم دو صحافیوں کے مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ایک بیان کے مطابق طالبان نے سوات اور بونیر ضلعوں کی سرحد پر واقع پولاند گاؤں میں پچاس کے قریب طالبان رحمٰن بونیری کے آبائی گھر پہنچے اور اہل خانہ کو باہر نکالنے کے بعد گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا۔

پی ایف یو جے کے مطابق حملہ آوروں نے چحافی رحمٰن بونیری کے والد عزیز الرحمٰن کو بتایا کہ انہیں ان کی اعلٰی قیادت نے اس کارروائی کا حکم دیا ہے۔

مالا کنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران یکساں طور پر یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ آزاد رپورٹنگ کی کوشش کرتے ہیں انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر وہ کسی بھی طریقے سے اپنی پیشہ ورانہ کام سے نہیں ہٹتے تو پھر انتہائی طریقہ ان کا قتل ہوتا ہے۔

اقبل خٹک

تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے مکان کو تباہ کرنے سے پہلے لوٹ مار بھی کی تاہم انہوں نے اہل خانہ میں سے کسی کو جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچایا۔

بیان کے مطابق رحمٰن بونیری کراچی میں مقیم ہیں اور امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ریڈیو ڈیوا کے لیے کام کرتے ہیں۔

رحمٰن بونیری کے بقول طالبان نے ان کے والد سے کہا کہ’ آپ کے بیٹے نے ریڈیو ڈیوا پر طالبان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم شروع کررکھی ہے اس لیے یہ اسکی سزا ہے‘۔

بیان کے مطابق یہ واقعہ آٹھ اور نو جولائی کی درمیانی شب پیش آیا۔ اسی رات طالبان نے پیر بابا کے قریب بلو خان گاؤں میں ایک اور صحافی بہروز خان کے بھی آبائی گھر پر حملہ کیا اور اہل خانہ کو باہر نکال کر لوٹ مار کرنے کے بعد اسے بھی دھماکے سے اڑادیا۔

بہروز خان پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور پشاور پریس کلب کے سابق صدر ہیں اور ان دنوں نجی ٹی وی چینل جیو کے نمائندے ہیں۔

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز سانس فرنٹئیرز (آر ایس ایف) یعنی سرحد بناء صحافی نے اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ رحمٰن بونیری نے ریڈیو ڈیوا پر رپورٹنگ کرتے ہوئےطالبان کے خلاف بات کی تھی جس کے تین دن بعد ان کے مکان کو تباہ کیا گیا۔

آر ایس ایف نے اس حملے کو بزدلانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئےاس کی سخت مذمت کی ہے اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ صحافیوں پر حملے بند کریں۔ تنظیم نے حکومت پاکستان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے ذریعے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

پشاور پریس کلب کے صدر شمیم شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ بہروز خان کے گھر سے چند سو گز کے فاصلے پر سکیورٹی فورسز کا کیمپ ہے اس کے باوجود ان کے گھر کو اس طرح بم سے اڑادیا جانا تعجب کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ رحمٰن بونیری اور بہروز خان کو ان کے صحافتی کردار کی وجہ سے یہ نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ دونوں نے ہمیشہ سوات اور بونیر کے حالات کو غیرجانبداری سے رپورٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔

آر ایس ایف کے پاکستان میں نمائندے اقبال خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مالا کنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران یکساں طور پر یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ آزاد رپورٹنگ کی کوشش کرتے ہیں انہیں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر وہ کسی بھی طریقے سے اپنی پیشہ ورانہ کام سے نہیں ہٹتے تو پھر انتہائی طریقہ ان کا قتل ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کے قبائلی علاقوں میں 2005ء سے اب تک پانچ سے زیادہ صحافیوں کو اسی طرح کے واقعات میں قتل کیا گیا ہے اور ان واقعات میں اضافہ اس لیے ہورہا ہے کیونکہ حکومت پاکستانی صحافیوں کے قتل کے واقعات کی تفتیش میں اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی جتنی امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل میں دکھائی تھی۔

آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ عراق کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے جہاں اس سال بھی اب تک چھ صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے جن میں دو کو سوات اور ایک کو باجوڑ میں قتل کیا گیا ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکومت نے سوات اور بونیر کو محفوظ علاقے قرار دیتے وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔