
حکومت کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے بسوں اور ٹرکوں کی سہولت فراہم کی گئی تھی
حکومت کے اعلان کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے بےگھر افراد کی باقاعدہ واپسی کا عمل پیر سے شروع ہو گیا ہے اور واپسی کے عمل کے بعد پہلا قافلہ لنڈاکئی چیک پوسٹ کے ذریعے سوات میں داخل ہوگیا ہے۔
تاہم واپسی کے پہلے روز حکومتی پلان کےبر عکس کم ہی خاندان گھروں کو واپس لوٹے ہیں۔
حکومت کے اعلان کے مطابق تین مرحلوں میں ہونے والی واپسی کے پہلے مرحلے میں صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ کے جلوزئی، فامیلو اور ضلع چارسدہ کے سلیم شوگر مل اور پلوسہ کے کیمپوں سے مجموعی طور پر تین ہزار سے زائد افراد کو سوات کے لنڈاکئی، کوٹہ، گوارتئی اور بری کوٹ جانا تھا۔
تاہم پیر کی صبح جب واپسی کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہوا تو بہت ہی کم لوگ واپس جانے پر آمادہ ہوئے۔ جلوزئی کیمپ میں واپسی کی فہرست میں شامل زیادہ تر افراد حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بسوں اور ٹرکوں میں سوار ہونے کی بجائے پچیس ہزار روپے کی نقد رقم اور واپسی کے لیے دیئے جانے والے سامان کی عدم فراہمی پر احتجاجاً واپس نہ جانے کے لیے کیمپ کے میدان میں جمع ہوئے تھے۔
زیادہ تر لوگ واپس جانے سے اس لیے کترا رہے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ کیمپ میں رہنے والے ستر فیصد لوگ رجسٹر نہیں ہوئے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی تصدیق نادار نے نہیں کی ہے انہیں مالی مدد اور واپسی کا سامان اور راشن نہیں دیا جاسکتا۔
انور علی
واپس جانے والے زیادہ تر لوگ خوش کم تھے اور مالی امداد اور سامان کی عدم فراہمی پر پریشان زیادہ نظر آئے۔ بری کوٹ کے ایک عمر رسیدہ شخص نیک زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جانے پر بہت خوش ہیں لیکن انہیں دو ماہ گزرنے کے باوجود پچیس ہزار روپے اور واپسی کا سامان نہیں دیا گیا ہے۔کیونکہ بقول ان کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا نام رجسٹر نہیں ہوا ہے۔
بری کوٹ کے ایک اور شخص شیرین زادہ نے بتایا کہ ان کا نام جانے والوں کی فہرست میں شامل ہے لیکن واپس جانے کے لیے انہیں نقد رقم اور راشن دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
جلوزئی کیمپ میں متاثرین کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ انور علی نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ تر لوگ واپس نہ جانے سے اس لیے کترا رہے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے مطابق کیمپ میں رہنے والے ستر فیصد لوگ رجسٹر نہیں ہوئے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی تصدیق نادرا نے نہیں کی ہے انہیں مالی مدد اور واپسی کا سامان اور راشن نہیں دیا جاسکتا۔
احتجاج کے بعد لوگوں نے کیمپ میں حکومتی نمائندے طاہر خان اورکزئی سے مذاکرات کیے جنہوں نے ان کی متعلقہ حکام کو بعض شکایات رفع کرنے کا حکم دیا جس کے بعد بعض لوگ واپس جانے کے لیے تیار ہوئے۔
حکومتی شیڈول کے مطابق جلوزئی کیمپ سے ایک سو آٹھ خاندانوں کو واپس جانا تھا لیکن غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو محض دو سوکے قریب افراد واپس گئے۔

واپس جانے کی خوشی بھی ہے اور خوف بھی
ادھر چارسدہ کے سلیم شوگر مل کیمپ سے بھی حکومت نے دو سو سینتالیس خاندانوں کے واپسی کا اعلان کیا تھا تاہم وہاں پر بھی مالی امداد اور دیگر سامان کی عدم فراہمی پر لوگوں نے جانے سے انکار کردیا۔اس موقع پر متاثرین نے مظاہرہ بھی کیا جس میں انہوں امن چاہیئے اور ہمیں اپنا حق دیں جیسے نعرے لگائے۔ پلوسہ اور فامیلو کے کیمپ سے بھی متاثرین کم تعداد میں سوات کے لیے روانہ ہوئے۔
جلوزئی کیمپ کے حکومتی نمائندے طاہر خان اورکزئی نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئےکم تعداد میں لوگوں کی واپسی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں جن علاقوں کے لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے وہ بہت چھوٹا ہے اور وہاں سے کم ہی لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج واپسی کا پہلا روز بھی ہے اور امید ہے دوسرے مرحلے میں جو پندرہ جولائی سے شروع ہورہا ہے واپسی کا عمل تیز ہوجائے گا۔
اس موقع پر پاکستانی فوج کے سپیشل سپورٹ گروپ کے ترجمان کرنل وسیم کا واپس جانے والے افراد کی سکیورٹی کے بارے میں کہنا تھا کہ انہوں نے ہر گاڑی میں محافظ بٹھائے ہوئے ہیں جبکہ فوجی جوانوں پر مشتمل حفاظتی دستے ان کی گاڑیوں کے ساتھ سفر کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کی محفوظ واپسی کے لیے ملاکنڈ ڈویژن میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ فوجی ہیلی کاپٹر فضاء سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے بقول گاڑیوں کی چیکنگ کے لیے کینیڈا سے ایک سکینر بھی حاصل کیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں آباد لوگوں کی واپسی کا عمل تئیس جولائی تک مکمل ہوجائے گا مگر مبصرین کے بقول اگرمتاثرین کی شکایات کو ختم نہیں کیا گیا تو واپسی کے عمل کا طول پکڑ نے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں اس سال مئی کے پہلے ہفتے میں طالبان کےخلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے بعد حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تین ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تاہم مختلف امدای اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت زیادہ سے زیادہ عالمی امداد کی حصول کی خاطر بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول ایک محتاط اندازے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن سے دو ملین کے قریب لوگ بے گھر ہوئے ہوں گے۔
© MMIX