Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 12 july, 2009, 13:00 GMT 18:00 PST

پناہ گزینوں کی واپسی اور مشکلات

حکومتی شیڈول کے برعکس لوگوں نے پہلے سے ہی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے بےگھر افراد کی باقاعدہ واپسی پیر سے شروع ہوگی مگر کیمپوں میں کام کرنے والے غیر سرکاری امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران تیس ہزار سے زائد افراد پہلے ہی سوات پہنچ چکے ہیں۔

صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے لوگوں کی واپسی کےحوالے سے جاری ہونے والے نظام اوقات کے مطابق کیمپوں اور باہر رہنے والے تمام افراد کی واپسی کا عمل تین مرحلوں میں پینتیس دنوں کے دوران مکمل ہوگا۔

اس سلسلے کا پہلا مرحلہ پیر تیرہ جولائی سے شروع ہوگا تاہم کیمپوں میں کام کرنے والے سوات کے چار غیر سرکاری امدادی اداروں کے اتحاد ’ڈیزاسٹر رسپانس ٹیم‘ کا کہنا ہے کہ حکومتی شیڈول کے برعکس لوگوں نے پہلے سے ہی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

’ڈیزائسٹر رسپانس ٹیم‘ کے ایک اہلکار حاضرگل نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کےدوران ان کے رضاکاروں کے اعداد وشمار کے مطابق تیس ہزار سے زائد افراد پیدل چلتے ہوئےمختلف پہاڑی اور دیگر دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے سوات پہنچ چکے ہیں۔

مینگورہ اور مضافات میں امن و امان کی صورتحال سکیورٹی فورسز کی گرفت میں ہے تاہم شہر میں کرفیو بدستور برقرار ہے۔

خان سردار

کیمپوں سے لوگوں کی واپسی کے حوالے سے حکومتی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئےحاضرگل کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں اتنی کم مدت میں لوگوں کو واپس بھیجنا شاید ممکمن نہ ہو جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ اس قسم کے بحران میں متاثرہ لوگوں کو واپسی کے لیے نقد رقم دی جاتی ہے مگر اس بارے میں بھی حکومت کی پالیسی اطمینان بخش نہیں ہے۔

ان کے بقول حکومت ہر خاندان کو پچیس ہزار روپے نقد دے رہی ہے جو نہ صرف بہت کم ہے بلکہ اس کے حصول میں لوگوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کے مطابق نقد رقم کی تقسیم کے لیےصرف مردان میں ایک پوائنٹ مقرر کیا گیا ہے جس پر بہت زیادہ رش رہتا ہے اور نقد رقم کے حصول میں تاخیر بھی لوگوں کی واپسی کے عمل پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف حکومت نے نوشہرہ اور چارسدہ کےجن کیمپوں سے پہلے مرحلے میں لوگوں کی واپسی کے انتظامات مکمل کیے ہیں وہاں سے جانے والے لوگ واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

جلوزئی کیمپ نوشہرہ میں مقیم ایک شخص عمر اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ واپسی کی خبر سن کر لوگ انتہائی خوش ہوئے ہیں۔ان کے مطابق ’ہمارے کیمپ میں بچے اور خواتین انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ مجھے تو (روہانسا ہوکر) خود رونا آ رہا ہے کیونکہ کیمپ کی تکلیف دہ زندگی سے جان چھوٹ جائے گی۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ دو مہینے دوزخ میں گزار کر اب واپس جنت جارہا ہوں۔ مجھے مرنا قبول ہے لیکن اپنے وطن جاؤں گا ضرور۔‘

مجھے تو رونا آرہا ہے کیونکہ کیمپ کی تکلیف دہ زندگی سے جان چھوٹ جائے گی۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ دو مہینے دوزخ میں گزار کر اب واپس جنت جارہا ہوں۔ مجھے مرنا قبول ہے لیکن اپنے وطن جاؤں گا ضرور۔

عمر اسحاق

لیکن بے گھر ہونے والے افراد میں بعض ایسے بھی ہیں جنہیں سوات میں صورتحال کی درستگی کے حوالے سے حکومتی دعوؤں پر اعتماد نہیں ہے۔ جلالہ کیمپ مردان میں مقیم فضل مالک کا کہنا ہے کہ کچھ خاندان ایسے ہیں جو اس ڈر سے واپس نہیں جانا چاہ رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ واپس جائیں اور پہنچ کر حالات پھر سے خراب ہوجائیں اور انہیں پھر سے واپس آنا پڑے۔

ان کے مطابق’میں پہلے اپنے بال بچوں کے بغیر اکیلے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیےجاؤں گا اور اگر میں نےصورتحال کو اطمینان بخش پایا تو واپس آ کر بچوں کو بھی لےجاؤں گا۔ میں ایسا اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ مجھے سوات سے نکلتے وقت بچوں اورخواتین کے ہمراہ پچیس کلومیٹر کا راستہ پیدل طے کرنے کے دوران پیش آنے والی صعوبتیں یاد ہیں۔‘

سوات کی صورتحال جاننے کےلیےحال میں نے وہاں واپس لوٹنے والے خان سرادر سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ اتوار کو بھی انہوں تقریباً سترہ ٹرکوں میں سوار لوگوں کو مینگورہ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مینگورہ اور مضافات میں امن و امان کی صورتحال سکیورٹی فورسز کی گرفت میں ہے تاہم شہر میں کرفیو بدستور برقرار ہے۔

ان کے بقول بجلی نوے فیصد جبکہ ٹیلی فون اور گیس کا نظام کو مکمل طور پر بحال کیا جاچکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مینگورہ کے بازار میں سنیچر کو بعض دکانیں کچھ دیر کے کھل گئی تھیں لیکن اتوار کو دکانیں بند رہیں جبکہ ٹریفک کے سپاہی کرفیو کے باوجود مختلف چوکوں پر کھڑے نظر آرہے ہیں۔

یاد رہے کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں اس سال مئی کے پہلے ہفتے میں طالبان کےخلاف شروع کی گئی فوجی کاروائی کے بعد حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تین ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تاہم مختلف امدای اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت زیادہ سے زیادہ عالمی امداد کی حصول کی خاطر بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کے بقول ایک محتاط اندازے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن سے دو ملین کے قریب لوگ بے گھر ہوئے ہوں گے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔