
آئین کو اس کی اصل روح کےمطابق بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: وزیر اعظم گیلانی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ’ملک میں نافذ آئین موجودہ شکل میں نہ صدارتی ہے اور نہ ہی پارلیمانی ہے بلکہ یہ دونوں کا ملغوبہ بن چکا ہے۔‘
یہ بات انہوں نے اتوار کے روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے دوران ایک طالب علم کے اس سوال کہ ’اصل میں پاکستانی آئین ہے کیا، صدارتی یا پارلیمانی‘ کا جواب دیتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے اس ضمن میں طلباء کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام حکومت ہونا چاہیے لیکن آمریت کے دور میں کی گئی ترامیم کے باعث اس کی سمت تبدیل کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اسی لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کر دیں۔‘
واضح رہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ستائیس رکنی کمیٹی آئین میں متنازعہ شقوں کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے جن کے ذریعے صدر مملکت کو قومی اسمبلی کی برطرفی سمیت متعدد ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں جن کے باعث صدر کے آئینی اختیارات وزیراعظم سے زیادہ ہونے کا تاثر ملتا ہے۔
نئی تعلیمی پالیسی کا محور اور مرکزی نکتہ تعلیم تک ہر پاکستانی کی رسائی ممکن بنانا ہو گا۔ آج کے دور میں ملک کو شدت پسندی اور دہشت گردی جیسے جتنے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان سب کا تعلق تعلیم کی کمی سے ہے۔
وزیر اعظم گیلانی
خود صدر مملکت آصف علی زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ فوجی صدور کے دور میں ہونے والی آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلان نے یونیورسٹی کانوکیشن میں اپنے تحریری خطاب میں کہا کہ حکومت ’تعلیم سب کے لیے‘ کے عنوان سے نئی تعلیمی پالیسی تیار کر رہی ہے جس کے لیے تمام متعلقہ افراد اور شعبوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئی تعلیمی پالیسی کا محور اور مرکزی نکتہ تعلیم تک ہر پاکستانی کی رسائی ممکن بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ملک کو شدت پسندی اور دہشتگردی جیسے جتنے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان سب کا تعلق تعلیم کی کمی سے ہے۔
انہوں نےتعلیم مکمل کرنے والے طلبا پر زور دیا کہ وہ عملی زندگی میں جاکر اسلام کے بارے میں اہل مغرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اسلام کے بارے میں یہ جذبات دنیا کو تہذیبوں کے تصادم کی جانب لے جا رہے ہیں۔
© MMIX