Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 12 july, 2009, 12:56 GMT 17:56 PST

شیر اور شتر مرغ

پاکستان

آئین کے مطابق پاکستان میں ہر دس برس بعد مردم شماری ضروری ہے

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات دوسری مرتبہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیےگئے ہیں اور اب یہ صوبوں کی صوابدید پر ہے کہ وہ موجودہ بلدیاتی نظام میں کیا تبدیلیاں کرتے ہیں اور کب انتخابات کرواتے ہیں۔

اگر آپ کسی بھی سرکردہ قومی جماعت کا منشور اٹھا کر دیکھیں تو اس میں خود مختار اور موثر بلدیاتی نظام کی بات کی گئی ہے۔لیکن باسٹھ برس کا ریکارڈ دیکھا جائے تو پاکستان میں اب تک سات مرتبہ جو بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں سب کے سب تین فوجی آمروں کے ادوار میں ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں سے نفرت کرنے والے فوجی حکمراں بلدیاتی نظام کے فروغ میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے ہیں اور سیاسی حکومتیں اس نظام کو اپنی سوکن کیوں سمجھتی ہیں؟

سیدھی بات ہے کہ جب ایوب خان، ضیاءالحق یا پرویز مشرف اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں تو انہیں اپنا یہ دعوی ثابت کرنے کے لیے کہ ہم سیاست کے کنوئیں سے نااہلی کا کتا نکالنے آئے ہیں ایک متوازی سیاسی نظام کھڑا کرنا پڑتا ہے۔اسکے لیے کبھی بنیادی جمہوریت کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے تو کبھی اقتدار میں عوام کی حقیقی شرکت کی چھتری تانی جاتی ہے تو کبھی نچلی سطح تک اختیارات کے پھیلاؤ کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ مروجہ سیاست کو نظرانداز کرکے ان بلدیاتی اداروں سے حاضر جناب طرز کی وہ سیاسی نسل پیدا ہوسکے جس پر فوجی آمر سواری گانٹھ لے۔

اس کے برعکس ہر سیاسی حکومت آمرانہ ادوار میں جنم لینے والے بلدیاتی ڈھانچے کو ہمیشہ اپنے اختیار و اقتدار کے لیے خطرہ تصور کرتے ہوئے انکے اچھے کاموں کو بھی مشکوک سمجھتی ہے۔اور یہی کراہت اور اقتدار میں شراکت کا خوف ان سیاسی حکومتوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام کی خامیوں کو درست کرنے کے بجائے پورے نظام کو لپیٹ کر ہی کونے میں رکھ دیں۔

انیس سو اٹھانوے کی آخری مردم شماری کے بعد بھی دو مرتبہ عام انتخابات ہوچکے ہیں۔اور اب مردم شماری کے آئینی عمل کوگیارہ برس گذر جانے کے باوجود صوبوں کے حقوق میں اضافے کی علمبردار حکومت نے اور آگے بڑھا دیا ہے

کم وبیش اسی طرح کا خوف مردم شماری کے ساتھ بھی چپکا ہوا ہے۔آئین کے مطابق پاکستان میں ہر دس برس بعد مردم شماری ضروری ہے۔کیونکہ مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں ہی اسمبلیوں میں آبادی کے تناسب سے نشستوں میں کمی بیشی ہوتی ہے۔صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان میں اس سال ساتویں مردم شماری ہوتی۔لیکن اب تک صرف پانچ مرتبہ ہی یہ عمل ہوسکا ہے۔گڑبڑ انیس سو اکیانوے میں شروع ہوئی جب مردم شماری کے پہلے مرحلے میں کئی نسلی گروہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں آبادی میں سو سو فیصد سے زائد اضافہ دکھانے کی کوشش کی۔یوں ساری مشق ہی بے معنی ہوگئی اور مردم شماری سات برس تک ملتوی ہوتی رہی۔ پانچ قومی انتخابات انیس سو اکیاسی کی مردم شماری کی بنیاد پر ہوئے۔مجال ہے کہ کسی بھی قابلِ ذکر جماعت نے احتجاجی آواز بلند کی ہو۔

انیس سو اٹھانوے کی آخری مردم شماری کے بعد بھی دو مرتبہ عام انتخابات ہوچکے ہیں۔اور اب مردم شماری کے آئینی عمل کوگیارہ برس گذر جانے کے باوجود صوبوں کے حقوق میں اضافے کی علمبردار حکومت نے اور آگے بڑھا دیا ہے۔

تاویل یہ ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال بلدیاتی انتخابات اور مردم شماری کے لیے سازگار نہیں۔سوال یہ ہے کہ جب یہی منطق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر لاگو کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے آئین کی پامالی اور جمہوریت کا قتل کیوں قرار دیا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ سیاست بے اقتدار ہو تو شیر ہوتی ہے اور کرسی پر بیٹھتے ہیں شترمرغ میں تبدیل ہوجاتی ہے !!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔