
جنوبی وزیرستان سے متاثرین کی بلوچستان آمد کا سلسلہ جاری ہے
پاکستانی حکومت جب مالاکنڈ میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی ان کے آبائی علاقوں کو واپسی کی تیاریاں کر رہی ہے تو جنوبی وزیرستان آپریشن سے متاثر ہونے والے قریباً چھ سے آٹھ ہزار افراد بلوچستان کے علاقے ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں سے کھلے آسمان تلے بےیار و مددگار پڑے ہیں۔
ژوب کے مضافات میں ایک برساتی نالے کے پاس جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پچاس گھرانوں نے چٹائیوں سے بنی جھونپڑیاں قائم کی ہیں جہاں وہ اپنی مدد آپ کے تحت رہ رہے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے ژوب شہر کے اندر مختلف محلوں میں مکان کرائے پر حاصل کیے ہیں۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک جنوبی وزیرستان میں حالات صحیح نہیں ہو جاتے کیونکہ ان کے علاقے میں حالات روزانہ نئی کروٹ لیتے ہیں۔ ژوب سے پانچ کلومیٹر دور کلی سگہ سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے ایک متاثرہ شخص گل محمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں وہاں آئے ہوئے پندرہ سے بیس روز ہوئے ہیں اور مزید لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ان کے علاقے کے لوگوں نے ژوب شہر میں مکان کرائے پر حاصل کر لیے ہیں جہاں وہ تین سے چار کمروں کے مکان کا کرایہ دس ہزار روپے تک دے رہے ہیں اور ایک ایک مکان میں ستر سے اسی لوگ رہائش پذیر ہیں۔
ژوب میں پناہ حاصل کرنے والے ایک متاثرہ شخص عید محمد نے بتایا ہے کہ وہ وانہ کے قریب تنائی کا رہائشی ہے اور کوئی پندرہ روز پہلے ژوب پہنچا ہے۔ عید محمد نے بتایا کہ جب فوج اور طالبان کے مابین جھڑپوں میں شدت آئی اور آئے روز مختلف علاقوں پر حملے ہوئے تو ان کے علاقے کے پچاس کے لگ بھگ گھرانوں نے ژوب کا سفر اختیار کیا۔
وزیرستان میں گولہ باری کا خطرہ تھا تو یہاں برساتی نالے کے قریب اب مون سون میں سیلاب کا خطرہ ہے ایسی صورتحال میں ہم کہاں جائیں۔
ایک متاثرہ شخص
انہوں نے کہا کہ سفر کے دوران راستے میں سمبازہ کے مقام پر انہیں پانچ گھنٹے تک پولیس اور مقامی حکام نے روکے رکھا اور بعد میں منت سماجت کے بعد انہیں چھوڑا گیا اور اب ژوب کی مقامی انتظامیہ اور حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی۔ متاثرین کے مطابق وہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور شدید گرمی کی وجہ سے ان کے بچے بیمار ہو رہے ہیں۔ ایک متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ’وزیرستان میں گولہ باری کا خطرہ تھا تو یہاں برساتی نالے کے قریب اب مون سون میں سیلاب کا خطرہ ہے ایسی صورتحال میں ہم کہاں جائیں‘۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک مقامی نمائندے عبدالمنان نے بتایا ہے کہ ایک ماہ پہلے تک دو دو اور تین گھرانے یہاں ژوب پہنچ رہے تھے لیکن اب کوئی دو ہفتے سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان متاثرین کی امداد کے لیے انھوں نے مقامی ناظم اور انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے لیکن انھوں نے فنڈ کی کمی کا کہا ہے اس لیے ان لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی ہے۔ مقامی صحافی عبدالرحمان حریفال اور ڈاکٹر اورنگزیب احساس نے بتایا ہے کہ وانا سے نقل مکانی کر کے آنے والے ان پناہ گزینوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور یہ لوگ ژوب سے آگے قلعہ سیف اللہ تک پہنچ گئے ہیں اور بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں۔
خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا سے نقل مکانی کرنے والے افراد میں بیشتر ڈیرہ اسماعیل خان بھی پہنچے ہیں لیکن وہاں بھی ان کے لیے کوئی کیمپ قائم نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہ کرائے کے مکانوں یا رشتہ داروں کے پاس رہ رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وانا سے کچھ لوگ سرحد پار افغانستان بھی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے پناہ حاصل کی ہے۔
© MMIX