
سوات میں فوج کی کارروائی سے قبل مولانا فضل اللہ کی طوطی بولتی تھی
بی بی سی ورلڈ سروس کی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں سوات علاقے کے طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور ان کے بچنے کی امید کم ہے۔
حکومت کے سینیئر اہل کاروں سے بھی مولانا فضل اللہ کے شدید طور پر زخمی ہونے کی اطلاعات کی تصدیق ہوئی ہے اور بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ ان کا بچنا اب مشکل ہے۔
ابتداء میں مولانا فضل اللہ سوات کے ایک گاؤں کے مولوی کی حیثیت سے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنےحامی طالبان کی ایک جماعت کھڑی کی اور وادی سوات پر ان کا قبضہ بھی ہوگیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ سوات میں اب طالبان کو شکست دی چکی ہے۔
فضل اللہ کی حالت کے متعلق بی بی سی نے جو اطلاعات حاصل کی ہیں وہ سوات علاقے کے لوگوں سے کیے گئے انٹرویو کی بنیاد پر جمع کی گئی ہیں۔
منگورہ کے ایک شخص واصف علی، جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا صحیح نام ظاہر نہیں کیا، کا کہنا تھا '' دراصل مولانا فضل اللہ دو فضائی حملوں کی زد میں آ چکے ہیں اور شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ وہ امام ڈھیری کے علاقے میں پھنسے ہیں جہاں انہیں طبی سہولیات میسر نہیں اور اپنی موت سے قریب ہیں۔''
واصف علی کے طالبان سے اچھے تعلقات رہے ہیں اور وہ علاقے میں فوج کے فضائی حملوں کو قریب سے دیکھتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے فضائی حملے میں طالبان رہنما شا دوراں ہلاک ہوگئے تھے۔ فوج نے بھی اپنے ایک بیان میں شاہ دوراں کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔
دراصل مولانا فضل اللہ دو فضائی حملوں کی ذد میں آگئے تھے اور شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ وہ امام دہری علاقے میں پھنسے ہیں جنہیں طبی سہولیات میسر نہیں اور اپنی موت سے قریب ہیں۔
سوات کا ایک مقامی شخص
علاقے کے بعض دیگر افراد سے بات چیت سے بھی پتہ چلا کہ مولانا فضل اللہ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔
بدھ کے روز فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بھی فضل اللہ کے زخمی ہونے کی بات کہی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ '' ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فی الوقت ان کی حالت کیا ہے۔''
واصف علی فوجی کارروائی کے دوران سوات سے باہر نہیں گئے تھے اور انہوں نے کارروائی کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدآئی تین دن زبردست لڑائی ہوئی جس میں فوج نے طالبان کو زمرد کی کانوں سے پیچھے دھکیل دیا۔ '' گن شپ ہمارے مکان کے اوپر سے ہی طالبان کے ٹھکانوں پر فائرنگ کر رہے تھے۔ ڈر سے ہم لوگ باتھ روم چھپ گئے تھے اور دعا کر رہے تھے کہ یہ سب جلدی ختم ہوجائے۔
مولانا فضل اللہ نے سوات میں تبلیغی کاموں کے لیے ایک ایف ایم ریڈیو بھی قائم کیا تھا۔ وہ اکثر اس پر خطاب کرتے تھے۔ سوات میں کارروائی سے پہلے حکومت پاکستان نے انہیں پکڑنے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔
درایں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس بات کی تردید کی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سوات کے امیر مولانا فضل اللہ کسی حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل اللہ اور طالبان کی قیادت محفوظ ہے اور سوات آپریشن میں ابھی تک کوئی اھم کمانڈر ہلاک نہیں ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل اللہ کےزخمی ہونے کی خبریں حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ ترجمان کے مطابق وہ مولانا فضل اللہ کے ایک قریبی ساتھی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔