
متاثرین کی امداد کے لیے صرف 230 ملین ڈالر ملے: اقوامِ متحدہ
اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر اور نائب سیکرٹری جنرل سر جان ہومز نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو متاثرین کی واپسی سے قبل متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے۔
مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ علاقوں کے دورے اور نقل مکانی کرنے والے افراد سے کیمپوں میں ملاقات کے بعد اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سر جان ہومز نے کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہمتاثرین کی وطن واپسی سے پہلے ان علاقوں میں حالات کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنائے۔
سر جان ہومز کے مطابق انہوں نے بونیر کا دورہ کیا ہے اور وہاں حالات بہتر تھے بلکہ وہاں پچاس فیصد کے لگ بھگ لوگ واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ باقی علاقوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں حالات کیسے ہیں۔’ہو سکتا ہے کہ سوات میں حالات بہتر نہ ہوں کیونکہ وہاں طالبان زیادہ عرصہ رہے ہیں تاہم یہ سب کچھ حکومت کو دیکھنا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کی رضامندی سے ہی واپس ان کے وطن بھیجا جائےگا۔

’متاثرین کو ان کی رضامندی سے ہی واپس بھیجیں گے‘
یاد رہے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نےگزشتہ روز کہا تھا کہ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن سے متاثر ہونے والے افراد کی وطن واپسی کا عمل تیرہ جولائی سے شروع ہوگا۔ انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ ابتداء میں کن کن علاقوں کو واپسی کا عمل شروع ہوگا۔
سر جان ہومز نے کہا کہ وہ مون سون کے موسم کو بھیمد نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اس موسم میں آئی ڈی پیز کو مشکلات در پیش نہ ہوں۔
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی امدادی اداروں اور ممالک سے مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کے لیے پانچ سو چالیس ملین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا جس میں اب تک صرف دو سو تیس ملین ڈالر وصول ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر آئی ڈی پیز پر خرچ ہو چکے ہیں۔ جان ہومز کے مطابق زلزلہ زدگان کے لیے جو امداد پہنچی تھی اس مرتبہ بین الاقوامی امدادی اداروں اور ممالک نے پہلے کی طرح امداد نہیں دی ہے اور اس کی کوئی ایک وجہ نہیں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مزید امداد وصول ہو گی۔
اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اس وقت کوئی تین ہزار سکولوں کی عمارتوں میں آئی ڈی پیز رہائش پذیر ہیں اور ستمبر میں سکول کھلنے سے قبل ان آئی ڈی پیز کے حوالے سے کچھ کرنا ہوگا۔اس سوال پر کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا گیا تو کیا اقوام متحدہ کے حکام ان کی بحالی کے لیے کوششیں کریں گے تو انہوں نے مختصر جواب دے کر کہا ’یس’ یعنی ہاں ۔
© MMIX