پاکستان کی سپریم کورٹ نے کاربن ٹیکس کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس پر اسے عدالت میں چیلنج کیے جانے کی صورت میں ہی غور کرے گی۔
سپریم کورٹ نے سات جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ کاربن ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کے نام سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اتنا ہی اضافہ کر دیا جتنی کہ یہ قیمتیں سپریم کورٹ کی جانب سے کاربن ٹیکس کی عارضی طور پر معطلی کے بعد کم ہوئی تھیں۔
دریں اثناء وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کی شام ایک نیوز بریفنگ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے بعد صدر کی طرف سے قیمتیں بڑھانے کے بارے میں جاری کردہ آرڈیننس کا مکمل دفاع کیا اور کہا کہ یہ ان کے مشورے پر جاری ہوا ہے۔وزیراعظم نے عدالتی فیصلے کے برعکس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آرڈیننس کے متعلق بات کرتے ہوئے کافی محتاط الفاظ کا استمعال کیا اور یہ تاثر دیا کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کرتی رہے گی لیکن تمام اداروں کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ پارلیمان کو بالا دست بنانا چاہیے اور پارلیمان بالادست عوام سے ہوتی ہے اور سولہ کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں نے تاریح میں پہلی بار متفقہ طور پر بجٹ منظور کیا جس میں کاربان ٹیکس ملکی حالات کی وجہ سے لگایا گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’آپ مجھے بتائیں کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے؟۔’ہم تو عدلیہ سے کہتے ہیں کہ ہمارا موقف سنیں ہمارے دلائل سنیں ۔۔ جو مالی مشکلات ہیں اس بارے میں ہمارے ماہرین کی رائے سنیں۔۔ اس وقت ہمارے ماہرین کی ٹیم بیرون ملک آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہی ہے اور اس صورتحال میں ان کی کیا پوزیشن ہوگی؟’۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا آرڈیننس اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو پیش کیا ہے اور اس پر جو بھی عدلیہ فیصلہ کرے گی حکومت اس کا احترام کرے گی ۔۔ ہمیں یقین ہے کہ عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ پارلیمان کی خودمختاری کے حق میں ہوگا‘۔
سیریم کورٹ کا گزشتہ روز کا حکم حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سینٹر رخسانہ زبیری اور پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کی ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا تھا جو کہ گزشتہ حکومت کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ جمعرات کو ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے صدارتی آرڈنینس کی کاپی عدالت میں پیش کی جس میں پیٹرولیم مصنوعات پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا نفاذ کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس آرڈنینس کے بعد درخواست گزار اقبال ظفر جھگڑا کی درخواست غیر موثر ہوگئی ہے۔ ایک اور درخواست گزار افتخار احمد کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ صدارتی آرڈنینس عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر اس آرڈنینس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو پھر اس کو دیکھیں گے۔
حکومت نے عدالتی احکامات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا بلکہ صدراتی آرڈنینس کے تحت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا نفاذ کیا گیا ہے جس پہلے فنانس بل میں ختم کرکے اس کی جگہ کاربن ٹیکس لگایا گیا تھا۔
فرحت اللہ بابر
آئل کمپنیوں کے وکیل خالد انور نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کی سماعت چار ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے امور کی درخواستوں کی سماعت میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت چار ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔
اقبال ظفر جھگڑا کے وکیل اکرام چوہدری نے سپریم کورٹ کے احاطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک نئی درخواست عدالت میں دائر کریں گے۔ موقع پر موجود صدراتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عدالتی احکامات کے خلاف کوئی کام نہیں کیا بلکہ صدراتی آرڈنینس کے تحت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا نفاذ کیا گیا ہے جس پہلے فنانس بل میں ختم کرکے اس کی جگہ کاربن ٹیکس لگایا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ کی ہے۔ دریں اثناء مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس لگانے کا پارلیمنٹ کا مشترکہ فیصلہ تھا جس پر سپریم کورٹ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کو دور کردیا گیا ہے۔
© MMIX