Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 9 july, 2009, 16:44 GMT 21:44 PST

پیٹرول پر نیا ٹیکس، مظاہرے

پیٹرول

کراچی اور لاہور میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے ہوئے

پاکستان میں پیٹرول پر ترقیاتی محصول کے نفاذ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر عوام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کراچی اور لاہور میں وکلاء اور مزدور تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کراچی میں پریس کلب کے باہر پاکستان لیبر پارٹی اور مذہبی جماعت پاسبان نے احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں نہ صرف حکومت بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔

اس احتجاج میں معصوم بچیاں بھی شامل تھیں جنہوں نے احتجاجاً ہاتھوں میں سوکھی روٹیاں اٹھا رکھی تھیں۔

لیبر پارٹی کے رہنما کامریڈ عبدالسلام و دیگر کا کہنا تھا کہ موجود حکومت کوگزشتہ حکومت کی آمرانہ پالسیوں سے تنگ آکر عوام نے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا تھا اور موجودہ حکمرانوں نے یہ وعدہ کیے تھے کہ وہ عوام کو ریلیف دیں گے مگر ’انہوں نے بھی پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں بحث کیے بغیر رات کی تاریکی میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پارلیمنٹ کا خود ہی مذاق اڑایا ہے۔

دوسری جانب پاسبان کے مظاہرے سے مرکزی رہنما الطاف شکور نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ غیر مقبول اور عوام مخالف فیصلوں سے پرہیز کرے ورنہ عوام کا سیلاب اسے بہا کر لے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طرح طرح کے ٹیکس لگاکر عوام کا خون نچوڑ لینا چاہتی ہے۔

دریں اثنا کراچی بار کے دفتر سے بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی کی قیادت میں وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا، دھرنے کے باعث شہر کی مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بری طرح سے جام ہوگئی۔

مظاہرہ

مظاہرین نے حکومت اور عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کراچی بار کےرہنما نعیم قریشی نے پیٹرول پر ٹیکس اور قیمتوں میں اضافے پر تنقید کی اور اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔

نعیم قریشی نے اعلان کیا کہ اس آرڈیننس کو کراچی کے وکلاء عدالت میں چیلنج کریں گے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وکلا نے ہائی کورٹ کے سامنے سے جلوس نکالا اور صدر آصف علی زردای کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ایم جی چوک پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔ وکلا رہنماؤں نے اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ظالمانہ اقدام ہے جس کے خلاف وہ روزانہ احتجاج کریں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے مال روڈ پر دھرنا دیا جائے گا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ دوسری جانب لیبر پارٹی پاکستان اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیر اہتمام بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا ہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے پیٹرول کے نئے نرخ وصول کرنے پر کئی جگہوں پر عملے اور شہریوں میں تلخ کلامی ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس اور ایف سی کو طلب کرلیا گیا، اس صورتحال کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پمپ بند ہوگئے ہیں جو رات تک نہیں کھلے تھے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز پیٹرول پر عائد کاربن ٹیکس کوغیر قانونی قرار دیکر اس ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوگئی تھی مگر حکومت کی جانب سے ترقیاتی محصول لگانے سے پیٹرول میں تقریباً دس روپے فی لیٹر اضافہ ہوگیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔