Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 10 july, 2009, 22:14 GMT 03:14 PST

’حکومت بیلٹ باکس سے خوفزدہ‘

بیلٹ باکس

اگر سری لنکا،اسرائیل اور افغانستان کی حکومتیں انتخابات کروا سکتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔ ناظم اٹک

پاکستان کے بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کے فیصلے کو ضلعی ناظمین نے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بیلٹ باکس سے خوفزدہ ہوکرراہ فرار اختیار کی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ اگست میں بلدیاتی اداروں میں ناظمین کی جگہ ایڈمنسٹریٹرز تعینات کردئیے جائیں گے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے فی الحال بلدیاتی انتخابات کروانا ممکن نہیں ہے۔

پنجاب کے ضلع اٹک کے ناظم ریٹائرڈ میجرطاہر صادق نے کہا ہے کہ یہ دلیل بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ اگر سری لنکا،اسرائیل اور افغانستان جیسے شورش زدہ ملکوں کی حکومتیں انتخابات کروا سکتی ہیں تو پاکستان میں بھی ہوسکتے ہیں۔

سابق صدر فاروق لغاری کے بھتیجے محسن لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت الٹے سیدھے بہانے بنا رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ انتخابات سے خوفزدہ ہیں۔

وزیر اعظم نے چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سے گفتگو کی تھی جس کے بعد یہ ضلعوں میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

محسن لغاری کے بقول وفاق سمیت چاروں صوبوں میں مخلوط حکومتیں ہیں اور وفاقی سمیت تمام صوبائی حکومتیں بلیٹ باکس سے گھبرا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہونے کی صورت میں اتحادی حکمران ایک دوسرے کے مقابل آئیں گے اسی لیے وہ انتخابات سے گریز کررہے ہیں۔

پنجاب کے پارلیمنٹرین محسن لغاری کا کہنا ہے کہ کوئی جماعت دوسرے کی حکمرانی قبول نہیں کرے گی اور ایک محاذ آرائی پیدا ہوجائے گی جس سے وہ بچنا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بری طرز حکومت کی وجہ سے حکمران جماعتوں کی مقبولیت کا گراف منفی میں جاچکا ہے اوران کے بقول حکمرانوں کو خدشہ ہے کہ جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات ان کی مقبولیت کا پول کھول دیں گے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے معاملہ صرف سیاسی جماعتوں کی ساکھ ہی کا نہیں ہے بلکہ افسر شاہی یعنی بیورکریسی کو بھی بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات ہضم نہیں ہورہے تھے اور وہ روز اول سے اس نظام کے خلاف سازش کررہی تھی۔

معاملہ صرف سیاسی جماعتوں کی ساکھ ہی کا نہیں ہے بلکہ افسر شاہی یعنی بیورکریسی کو بھی بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات ہضم نہیں ہورہے تھے اور وہ روز اول سے اس نظام کے خلاف سازش کررہی تھی۔

مبصرین

صوبہ پنجاب،صوبہ سرحد اور بلوچستان میں کمشنریٹ نظام کو بحال کیا گیا جبکہ ضلعی ناظمین ترقیاتی فنڈز روکے جانے کا رونا روتے رہے۔

بلدیاتی قوانین کے ماہر مبین الدین قاضی کا کہنا ہے اراکین پارلیمان کو قانون سازی سے زیادہ گلیوں سڑکوں کےترقیاتی فنڈز میں دلچسپی ہے اسی لیے وہ افسر شاہی کی بچھائے سازش کے جال کا حصہ بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ڈسٹرکٹ منیجنمنٹ گروپ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ایس ایچ او کے ان اختیارات کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جو برطانوی حکمرانوں نے اپنا راج قائم رکھنے کے لیے انہیں دے رکھے تھے۔

پنجاب کے ضلع اٹک کے ناظم میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے فیصلے کے پیچھے پنجاب حکومت کا دباؤ ہے کیونکہ ان کے بقول وزیر اعلی پنجاب گلی کی مرمت سے لیکر پٹواری اور سکول ٹیچر کے تبادلے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے رہنما ہمیشہ اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اوراب بھی یہی ہورہا ہے۔

اٹک کے ضلعی ناظم ریٹائرڈ میجر صادق سے پوچھا گیا کہ جب اگست کو ان عہدے کی میعاد مکمل ہوہی جائے تو اس کے بعد ایڈمنسٹریٹرز مقرر کردئیے جانے پر انہیں کیا اعتراض ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ایک تو ان کے عہدوں کی مدت اگست میں نہیں بلکہ اکتوبر میں پوری ہوگی اور دوسرے یہ کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ جب تک نیا ناظم نہیں آجاتا موجودہ ناظمین بدستور کام کرتے رہیں گے۔

مبین الدین قاضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے سے پہلے دوتہائی پارلیمانی اکثریت سے آئینی ترمیم درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چلینج کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی ناظمین نے انہیں حکومت کے خلاف مقدمہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے اور جلد وہ اعلی عدلیہ میں آئینی درخواست دائر کردیں گے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔