آخری وقت اشاعت:  Thursday, 9 july, 2009, 09:20 GMT 14:20 PST

میجر کلیم کیس: نامزد کونسلر کی تدفین

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئے ہیں

کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے متحدہ قومی مومنٹ کے سابق کونسلر حاجی جلال اور ان کے دو بیٹوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے، تین روز میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد علاقے میں خوف و ہراس اور کشیدگی برقرار ہے ۔

حاجی جلال، ان کے دو بیٹوں عثمان اور عبداللہ کی نماز جنازہ جمعرات کی صبح لانڈھی نمبر چار کے علاقے میں ادا کی گئی، بعد میں تینوں کی ریڑھی گوٹھ قبرستان میں تدفین کی گئی۔ اس موقعے پر بھاری تعداد میں پولیس اور رینجرز تعینات تھی۔

گزشتہ شب لانڈھی نمبر چار کے علاقے زمان آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ میں حاجی جلال، ان کے دو بیٹےعثمان اور عبداللہ اور ایک قریبی رشتے دار سہیل ہلاک ہوگئے تھے۔ لانڈھی پولیس کا کہنا ہے واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے۔

پولیس کے مطابق حاجی جلال پاکستان فوج کے میجر کلیم کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں بھی نامزد تھے، یہ مقدمہ انیس سو اکیانوے میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت سولہ رہنماؤں کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق حاجی جلال پاکستان فوج کے میجر کلیم کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں بھی نامزد تھے، یہ مقدمہ انیس سو اکیانوے میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت سولہ رہنماؤں کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

حاجی جلال انیس سو ترانوے کو لندن چلے گئے تھے اور ڈھائی تین ماہ قبل واپس آئے تھے۔ پولیس کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے۔ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ان پر دائر مقدمات ختم ہوگئے تھے۔کراچی واپسی کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھا تھا۔

واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہوگئی نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کی جس وجہ سے کاروبار بند ہوگیا۔ پولیس کے ساتھ رینجرز نے بھی گشت شروع کردیا۔

تین روز پہلے بھی اسی علاقے میں تھانے کے سامنے نامعلوم افراد کی فائرنگ میں دو بھائی ہلاک ہوگئے تھے، جو حاجی جلال کے پڑوسی تھی۔ جس کے بعد علاقے میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور پولیس پر بھی حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

کراچی میں گزشتہ تین ماہ کے اندر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، ان واقعات کا مرکز لانڈھی کا علاقہ ہے۔ان واقعات کی روک تھام کے لیےپچھلے ماہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی کا دورہ کیا تھا مگر کچھ دنوں کی خاموشی کے بعد ان واقعات کا سلسلہ اب پھر شروع ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں کراچی میں ایک سو سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں، جن میں مہاجر قومی مومنٹ حقیقی کے اڑتیس، متحدہ قومی مومنٹ کے اٹھائیس، پاکستان پپلزپارٹی کے گیارہ، عوامی نیشنل پارٹی کے دس، سندھ ترقی پسند پارٹی کے چار، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے دو دو، پاکستان مسلم لیگ (ف)، جئے سندھ قومی محاذ اور پنجابی پختون اتحاد کا ایک ایک کارکن شامل ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔