Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 9 july, 2009, 06:46 GMT 11:46 PST

بجلی چوری روکنے کے لیے فتوے کا سہارا

کراچی میں بجلی کا بحران

کراچی میں بجلی چوری کی شکایت عام ہے

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن نے مختلف دینی اداروں سے تعلق رکھنے والے بارہ علماء سے بجلی چوری کے خلاف فتوٰی حاصل کیا ہے۔

اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ا س گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان صادق جعفری کا کہنا ہے کہ بڑی پیمانے پر بجلی کی چوری ہو رہی ہے جس کی روک تھام کے لئے ان کے ادارے نے علما کو فتویٰ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کے ای ایس سی کو بجلی چوری کی وجہ سے سولہ ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس سال ہر مہینے تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

کے ای ایس سی کے اعلامیے کے مطابق فتویٰ جاری والے علمائے میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد رفیع عثمانی، نائب مفتی عبدالروف سکھروی ، نائب مفتی محمودالحسن اورمولانامحمد عبدالمنان، جامعہ بنوریہ العالمیہ کے رئیس عبداللہ شوکت، نائب رئیس سیف اللہ، مولانامحمد سعد جاوید، جامعہ حمادیہ کے مولانامحمد قمرالحسن، مولانا نورالدین پانیزئی اور دارالافتاءاہلسنت کے مولانامحمد رضوان رضاالعطاری المدنی، مولانافیصل رضاالقادری العطاری اور مولانامحمد سجاد عطاری المدنی شامل ہیں۔

بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ا س گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔

ان علماء نے بجلی چوری کے مرتکب شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگیں اور آئندہ متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر بجلی استعمال نہ کرنے کا پختہ عہد کریں۔ ورنہ جب تک ناجائز بجلی استعمال ہوتی رہے گی، تو کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتارکم کر کے بجلی استعمال کرنے والےگناہ کبیرہ میں مبتلا رہیں گے۔

علماء کا کہنا ہے کہ’محفل میلاد یا دوسری محافل پر چراغاں کے لیے کنڈے کی بجلی استعمال کرنا بھی چوری میں شمار ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے لہٰذاایسے میلاد سے ثواب کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ مال حلال ہی قبول فرماتا ہے‘۔

علما ئے کرام نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ بجلی چوری کرنے کے لیے میٹربند کرنا، کنڈالگانا، میٹر کی رفتارکم کرنا یا اس کے علاوہ کوئی اور ایسی صورت اختیارکرنا جو حکومت یامتعلقہ ادارے کی طرف سے قانونا ممنوع ہو، شرعا ناجائزاور گناہ ہے۔ اور اس میں دوطرح کاگناہ لازم آتاہے۔ ایک تو یہ ایک ایسے ادارے کی چوری ہے جس سے بہت سے لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں اور چوری اگر ایک آدمی کی ہوتب بھی سخت گناہ ہے اور اگر بہت سے لوگوں کی ہو تو گناہ مزید بڑھ جاتاہے۔

کراچی میں بجلی کا شدید بحران

کراچی میں بجلی کا شدید بحران ہے اور شہر میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے

دوسرے یہ کہ جائز امورمیں حکومتی قوانین کی پاسداری واجب ہے ، چونکہ بجلی کی چوری حکومت کی طرف سے قانوناً ممنوع ہے جو کہ عوامی مصالح کے پیش نظرجائز پابندی ہے اس لیے بجلی چوری کرناجائز حکومت کی مخالفت کرنا ہے جوکہ ناجائز اور گناہ ہے۔

علمائے کے مطابق کراچی میں بجلی ایک نجی ادارے کی ملکیت ہے اس لیے کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتار کم کر کے بجلی استعمال کرنا حرام اورگناہ کبیرہ ہے اور ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ جتنی بجلی متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہے اسی ادارے کو اس کی ادائیگی کریں اور جو گناہ ہوا ہے اس کی انتہائی پشیمانی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔

یاد رہے کہ پچھلے دنوں کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن نے بل کی عدم ادائیگی پر شہر کی مشہور دینی درس گاہ دارلعلوم احتشامیہ کی بجلی منقطع کر دی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ درس گاہ کے قیام کے وقت بجلی اور پانی کی مفت فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔