Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 8 july, 2009, 10:25 GMT 15:25 PST

’تیل کی قیمت روپے سے منسلک کی جائے‘

پٹرول مظاہرے

کاربن ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ہے جس کو نہیں لگنا چاہیے: کمیشن

پیٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی سربراہی میں بننے والے کمیشن نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمیت کو غیر ملکی کرنسی کی بجائے پاکستانی روپے کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ پیٹرولیم کی مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام کو پہنچ سکے۔

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں کا طریقہ کار وضح کرنے کے لیے توانائی اور پیٹرولیم کی فیلڈ کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

کمیشن نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیا گیا کاربن ٹیکس کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یہ ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ہے جس کو نہیں لگنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی مختصر، درمیانی اور طویل مدت کے منصوبے بھی بنائے اس کے علاوہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارت پیٹرولیم کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے۔

کمیشن نے سنہ 2001 سے سنہ 2009 کے مارچ کے مہینے تک پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کی مد میں عوام سے حاصل کی گئی رقم کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق اس عرصے کے دوران حکومت نے 10 کھرب، 23 ارب 64 کروڑ روپے کمائے تھے۔

اس رقم کے بریک اپ میں سیلز ٹیکس کی مد میں 548954 ملین ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 33381 ملین روپے، کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 79771 ملین روپے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 281364 اور انکم ٹیکس کی مد میں 80171 ملین کمائے ہیں۔

کمیشن نے اس عرصے کے دوران تیل کی چار بڑی کمپنیوں کے منافع کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ منافع انکم ٹیکس نکال کا ظاہر کیا گیا ہے۔

اٹک ائل کمپنی نے ٹیکس کی کٹوتی کے بعد 6918 ملین روپے منافع کمایا ہے۔ پاکستان سٹیٹ آئل نے 45355 ملین روپے، شیل پاکستان نے 15286 ملین اور شیوران ( کالٹیکس) نے 7738 ملین روپے کمائے ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ ڈیلر کا مارجن فکس کیا جائے اور اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں بھی کمی کی جائے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے ایچ او بی سی اور لائٹ ڈیزل کو بھی ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مختلف آئل کمپنیوں کے منافعے کے مارجن کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اس کے علاوہ پارکو کو تیل کے ذخائر میں اضافے کے لیے مزید ڈپو بنانے کی بھی ہدایت کی جائے۔ کمیشن نے ایکس ریفائنری کی قیمتوں کا فارمولا طے کرنے کے بارے میں ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس عدالتی کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ میں ایکس ریفائنری پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان فیکٹریوں میں تیل بین الاقوامی معیار کے مطابق صاف نہیں کیا جاتا۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کے حوالے سے منگل کے روز جب بان درخواستوں کی سماعت ہوئی تھی تو اوگرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں کے بریک اپ میں سب سے زیادہ اضافہ ایکس ریفائنری پر کیا گیا تھا جو چار روپے سے لیکر چھ روپے ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔