Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 7 july, 2009, 18:18 GMT 23:18 PST

خطرہ ضرور ہے مگر بڑا نہیں

چوہدری شجاعت

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں وسطی پنجاب کا علاقہ ہو یا جنوبی پنجاب کا، کئی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ووٹ تقسیم ہونے کا نقصان نواز لیگ کو ہوگا اور فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوسکتا ہے۔

’نظریہ ضرورت‘ کے تحت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی قائم کردہ جماعت مسلم لیگ (ق) میں فارورڈ بلاک بننے کے بعد اب ایک اور دھڑا بننے کے بعد گجرات کے چوہدری برادران کو سیاسی دھچکا تو ضرور لگا ہے لیکن اب بھی وہ پنجاب کی وسیع پیمانے پر عوامی نمائندگی کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کے میاں برادران کی سیاست کا دردِ سر بنے رہیں گے۔

چوہدری شجاعت کی جانب سے تیسری بار پارٹی کا سربراہ بننے کے خلاف حامد ناصر چٹھہ، ہمایوں اختر اور سلیم سیف اللہ نے جہاں اٹھارہ جولائی کے مرکزی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے وہاں اپنا علیحدہ گروپ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس اعلان کا بظاہر مقصد چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے، جس کا فوری فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوگا کیونکہ ان کی راہ میں پیپلز پارٹی کے بعد گجرات کے چوہدریوں سے زیادہ کوئی اور بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں وسطی پنجاب کا علاقہ ہو یا جنوبی پنجاب کا، کئی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ووٹ تقسیم ہونے کا نقصان نواز لیگ کو ہوگا اور فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوسکتا ہے۔

گجرات کے چوہدریوں سے کئی معاملات پر اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے ان کے مخالفین بھی انکار نہیں کریں گے کہ پنجاب میں چوہدری برادران ایک قابل ذکر سیاسی حیثیت رکھتے ہیں اور پرویز مشرف کے پانچ سالہ دور میں انہوں نے اپنا سیاسی وزن اتنا بڑھا لیا کہ اسے اتنا آسانی سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے شمالی اضلاع اٹک اور چکوال سے لے کر جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان تک تقریبا ہر ضلع میں کئی ایسے خاندان ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں اچھا خاصا سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور وہ تاحال چوہدری برادران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو چوہدری برادران کے قریبی رشتہ دار ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو ان کے دیرینہ خاندانی دوست ہیں۔

چوہدری برادران کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اگر بُرے سے برے حالات بھی پیدا ہوجائیں تو بھی ان کی جماعت بارہ سے پندرہ قومی اسمبلی اور پچیس سے تیس پنجاب اسمبلی کی نشستیں باآسانی جیت سکتے ہیں اور ایک ’پریشر گروپ’ کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔


چوہدری برادران کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اگر بُرے سے برے حالات بھی پیدا ہوجائیں تو بھی ان کی جماعت بارہ سے پندرہ قومی اسمبلی اور پچیس سے تیس پنجاب اسمبلی کی نشستیں باآسانی جیت سکتے ہیں اور ایک ’پریشر گروپ‘ کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

فاروق لغاری اور فیصل صالح حیات بھی حالات کے پیش نظر فی الحال اپنی عافیت چوہدری برادران کی کشتی میں سوار رہنے میں ہی سمجھتے ہیں جوکہ ان کے لیے ایک لحاظ سے تقویت کا باعث بھی ہے۔ اس کے علاوہ چوہدری برادران کو ’خفیہ‘ کی بھی حمایت حاصل ہوگی جوکہ موجودہ حالات میں ان کے لیے کسی غیبی مدد سے کم نہیں ہوگی۔ ’خفیہ‘ والوں کو دو تہائی اکثریت والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ کام کرنے کا جو ماضی میں تجربہ ہوا ہے وہ بھی چاہیں گے کہ پنجاب کی طاقت کسی ایک جماعت کے بجائے منقسم رہے تو بہتر ہے اور اُس ’قومی مفاد’ کے تحت تو ’خفیہ‘ والوں کا چوہدری براداران کی مدد کرنا قومی فریضہ بن جاتا ہے۔

گزشتہ روز لاہور میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اختر عبدالرحمٰن جو ضیاء الحق کے ساتھ طیارے میں مارے گئے، ان کے ارب پتی صاحبزادے ہمایوں اختر کی میزبانی میں چوہدری برادران کے خلاف جو نیا گروہ سامنے آیا ہے، وہ بعض مبصرین کی رائے کے مطابق شاید ہی زیادہ دیر تک قائم رہ سکے۔ ان کے بقول فی الوقت تو یہ دھڑا اپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ سیاسی مارکیٹ میں جگہ بنانے کی کوشش کرے گا لیکن کچھ عرصہ بعد ہمایوں اختر اور سلیم سیف اللہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوسکتے ہیں اور حامد ناصر چٹھہ اپنی پرانی حیثیت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

تقریبا آٹھ برس قبل جب اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے فیصل صالح حیات کی سربراہی میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ، فاروق لغاری کی ملت پارٹی، اعجاز الحق کی ضیاء لیگ، حامد ناصر چٹھہ کی جونیجو لیگ، کبیر علی واسطی کی قاسم لیگ اور منظور وٹو کی جناح لیگ کو ’مسلم لیگ قائداعظم‘ یعنی (ق) لیگ بنائی تھی تو بعض تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ ’یہ چوں چوں کا مربہ زیادہ دیر نہیں چلے گا‘۔

لیکن فارورڈ بلاک بننے اور ایک نئے دھڑے کے سامنے آنے کے بعد اب بھی کچھ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پانچ سالہ اقتدار کی رسی سے بندھے رہنے کے بعد تاحال جو مسلم لیگ (ق) میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے اس سے گجرات کے چوہدری برادران کو سیاسی طور پر جھٹکا تو لگا ہے لیکن ان کے سیاسی مستقبل کے لیے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔