
چیف جسٹس نے پانچ جولائی کی مناسبت سے کہا کہ یہ ایک افسوسناک دن ہے
ملک بھر سے آنے والے اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ کے ججوں، وکلا اور عدلیہ سے متعلق سرکاری اہلکاروں کی کانفرنس میں ملک میں عدالتی نظام کو مؤثر، تیز رفتار اور بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے متعدد تجاویز کی منظوری دی ہے جس میں ججوں کی تنخواہوں میں اضافے سے لے کر حکومت سے عوام کے لیے ضلع کی سطح پر بہتر عدالتی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس میں جن تجاویز کی منظوری دی گئی ان میں ماتحت عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں میں اضافے، چاروں صوبوں میں تمام عدالتوں کو ایک جگہ قائم کرنے کے لیے جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر، ججوں کی میرٹ پر تعیناتی اور ان کی مناسب تربیت کے لیے فنڈز کی فراہمی وغیرہ کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ مقدمات کے فیصلے کرنے میں غیر ضروری طوالت اور عدلیہ سے بد انتظامی اور بدعنوانی ختم کر کے عوام میں کورٹ کچہری کا عمومی تاثر تبدیل کر دیا جائیگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں ضلعی سطح پر بھی منعقد کی جائیں گی جن کے ذریعے عدالتی نظام بہتر بنانے اور عدالتی ماحول کو عوام دوست بنانے کے لیے مزید تجاویز سامنے لائی جائیں گی۔
کانفرنس کے اختتام پر اس کی سفارشات کا اعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی پالیسی پر عمل درآمد کے دوران فنڈز اور افرادی قوت کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی، خاص طور پر ماتحت اور خصوصی عدالتوں کی سطح پر یقینی بنائی جائے۔ ’اس کے ساتھ ساتھ ججوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور نئی عدالتی پالیسی پر عمل کرنے کے لیے فنڈز کی فراہمی بھی اہم ہے‘۔
چیف جسٹس نے کانفرنس کی سفارشات کے حوالے سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماتحت عدلیہ کے ججوں اور سٹاف کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے پانچ جولائی کی مناسبت سے کہا کہ یہ ایک افسوسناک دن ہے کیونکہ بتیس سال قبل اسی دن آئین کو پامال کیا گیا تھا۔ 'اس وقت ایک جمہوری دور ہے اور کانفرنس کے شرکا ملک میں آئین پر عمل کی پابندی کا پیغام دیتے ہیں'۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا حق ہے اور آزاد عدلیہ ہی انہیں یہ حق فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران وفاق کے مختلف حصوں میں جو واقعات ہو رہے ہیں ان سے اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے کہ پاکستانی عوام کو انصاف کے حصول میں مشکلات ہیں جنہیں دور کرنا ان کی بنیادی خواہش ہے۔
© MMX