Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 4 july, 2009, 11:14 GMT 16:14 PST

ہزاروں مقدمات زیر التوا :چیف جسٹس

افتخار چوہدری

افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ قومی عدالتی پالیسی میں عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرنے سے اب تک کوئی ایک سو ساٹھ ججوں کو واپس بلا لیا گیا ہے

چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ قومی عدالتی پالیسی میں عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرنے سے اب تک کوئی ایک سو ساٹھ ججوں کو واپس بلا لیا گیا ہے جنہیں عدالتوں میں تعینات کر دیا گیا ہے اور اس سے کسی حد تک بہتری آئی ہے۔

اسلام آباد میں قومی عدالتی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکریٹری قانون نے جو اعداد و شمار فراہم کیے ہیں اس کے مطابق کئی عدالتوں میں ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں۔ بینکنگ کورٹ ، انکم ٹیکس کورٹ اور فیڈرل سروس ٹریبیونل میں ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں اور ان عدالتوں میں کئی ججوں کی نشستیں خالی پڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت فوری کارروائی کرے اور ان خالی نشستوں پر تعیناتی کی جائے تاکہ یہ زیر التوا مقدمات جلد از جلد نمٹا کر لوگوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ خوف میں گھرے ہوئے عوام کو سستا اور آسان انصاف فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو عدالتوں پر اعتماد ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اسلحہ اٹھا کر اپنے معاملات طے کرنے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی قومی عدالتی پالیسی سے لوگوں کو ان کی دہلیز پر سستا انصاف فراہم کیا جا سکے گا اور اس کے لیے انہوں نے ججوں اور وکلا پر زور دے کر کہا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر کریں۔

افتخار محمد چوہدری کے مطابق انصاف پر مبنی نظام سے ہی بہتر حکمرانی کی جا سکتی ہے اور اس سے جمہوری ادارے بھی مستحکم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی عدالتی پالیسی ایک ایسا روڈ میپ فراہم کرے گی جس سے لوگوں کو سستا اور آسان انصاف فراہم ہوگا اور اس سے بدعنوانی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور اسی طرح وکلا کو بھی تیاری کرکے آنا چاہیے اور وہ حالات و واقعات سے واقف ہوں تاکہ مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں اور ایسی کوشش نہیں کرنی چاہیے جس سے مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری التوا ہو۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔