Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 3 july, 2009, 13:20 GMT 18:20 PST

’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرو‘

حواجہ سرا فائل فوٹو

ہماری برادری محنت کش ہے اور ناچ گانا کرکے روزی کماتی ہے: الماس

خواجہ سراؤں کی تنظیم شی میل رائٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی دوسرے لوگوں کی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے دیا جائے۔

تنظیم کے سربراہ الماس عرف بوبی کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ اُن کے گھر والے بدنامی کے ڈر سے لاتعلقی کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیتے ہیں تو وہ کہاں سے ب فارم لائیں اور شناختی کارڈ بنوائیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت بوڑھے افراد کی دیکھ بھال کے لیے شیلٹر ہوم بنا رہی ہے اسی طرح اُن کی برادری کے لیے بھی رہنے کا بندوبست کیا جائے۔

اُدھر سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں صوبہ پنجاب میں خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوگیا ہے اور اس ضمن میں فارم تقسیم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ رجسٹریشن کا یہ عمل دو ہفتوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔

الماس کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ملکی سطح پر خواجہ سراؤں کا کنونشن بُلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اُن کی برادری کو سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا ہے اور محلوں میں لوگ اُن کو مکان یا کمرہ کرائے پر نہیں دیتے۔

جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کا معاملہ اُٹھایا ہے اُسی طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے لیے ہر شہر میں رہائشی کالونیاں بنانے کے علاوہ علیحدہ ہسپتال بھی بنائے کیونکہ اُنہیں طبی سہولتیں حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

الماس

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی برادری محنت کش ہے اور ناچ گانا کرکے روزی کماتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان عمر رسیدہ خواجہ سراؤں کو اولڈ ایج بینیفٹس الاؤنس دیا جائے۔

الماس کا کہنا تھا کہ جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کا معاملہ اُٹھایا ہے اُسی طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے لیے ہر شہر میں رہائشی کالونیاں بنانے کے علاوہ علیحدہ ہسپتال بھی بنائے کیونکہ اُنہیں طبی سہولتیں حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شی میل رائٹس کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ اُن کی برادری کے لیے علیحدہ قبرستان بھی بنایا جائے کیونکہ مولوی حضرات اس برادریکے لوگوں کو قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی مولوی کو یہ معلوم ہو جائے کہ مرنے والا خواجہ سرا ہے تو وہ اس کا جنازہ نہیں پڑھاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ قبل راولپنڈی میں ایک خواجہ سرا کو دفنانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بعدازاں اہل محلہ والوں کی مداخلت پر مولوی حضرات نے اُس کو دفن کرنے کی اجازت دی۔

الماس کا کہنا تھا کہ بیرونی دنیا میں اگر کوئی جانور بھی مرجائے تو اُس کو احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں تو ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔