Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 4 july, 2009, 22:39 GMT 03:39 PST

صوبائی وزیرداخلہ کے خلاف قتل کا مقدمہ

قوم پرست، متاثرین کی سندھ میں آمد کے خلاف ہیں

کراچی پولیس نے عدالت کے حکم پر صوبۂ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور متعلقہ افسران کے خلاف ایک قوم پرست جماعت کے دو کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ کارکن مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کی سندھ میں آمد کے خلاف گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے دوہرے قتل کا یہ مقدمہ سہراب گوٹھ پولیس تھانے میں درج کیا ہے جس کی ایف آئی آر نمبر 437/09 ہے۔ اس مقدمہ میں صوبائی وزیر داخلہ کے علاوہ ایس پی گڈاپ راؤ انوار، ڈی ایس پی سہراب گوٹھ افتخار لودھی اور تین ایس ایچ اوز کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

سہراب گوٹھ تھانے سے ایک پولیس افسر نور محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمہ میں ملزمان کے خلاف قتل عمد کی دفعہ 302 لگائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ ترقی پسند پارٹی کی ایک ریلی کو پولیس نے ناردرن بائی پاس پر روکا تھا جس دوران تصادم کے نتیجے میں دو سیاسی کارکنان ہلاک ہوگئے تھے، اور یہ مقدمہ اسی سلسلے میں درج کیا گیا ہے۔

ملیر کی مقامی عدالت نے جمعہ کی دوپہر یہ حکم نامہ ایک مقتول کارکن کے بھائی کی جانب سے درخواست دائر ہونے کے بعد جاری کیا جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا، ٹی پی او گڈاپ راؤ انوار ، ڈی ایس پی سہراب گوٹھ افتخار لودھی اور تین تھانوں سہراب گوٹھ، گلشن معمار اور گڈاپ کے ایس ایچ اوز کو ایف آئی آر میں نامزد کیا جائے۔

پولیس نے دو روز قبل بھی اسی سلسلے میں پولیس افسران کے خلاف ایک مقدمہ اس وقت درج کیا تھا جب صوبائی وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے بنائی گئی ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قوم پرست جماعت کے کارکنوں کی ہلاکت کا ذمہ دار متعلقہ پولیس افسران و اہلکاروں کو ٹھہرایا تھا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کو بدھ کے روز ملیر کی مقامی عدالت میں جمع بھی کرایا گیا تھا۔

جمعہ کے روز ملیر کی مقامی عدالت میں سماعت کے دوران سندھ ترقی پسند پارٹی کے نمائندوں نے دو روز قبل پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد عدالت نے مقتول کارکن کے بھائی کی جانب سے دی گئی درخواست پر حکم دیا کہ وزیر داخلہ سمیت تمام متعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

کراچی میں مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کی آمد کے خلاف قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے دس جون کو ریلی نکالی گئی تھی جسے وزیرِاعلٰی ہاؤس کے سامنے دھرنا دینا تھا۔ تاہم ریلی جب ناردرن بائی پاس پہنچی تو پولیس نے اس پر شیلنگ اور مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پولیس نے چھتیس افراد کو گرفتار کیا تھا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔