Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 2 july, 2009, 11:39 GMT 16:39 PST

راولپنڈی: سرکاری بس پر خودکش حملہ

فائل فوٹو

ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے حکام میں ابہام ہے

راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اس سے قبل ناصر درانی ہی نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے بس کے فیول ٹینک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔

کلِک راولپنڈی:بس پر خودکش حملہ

یہ واقعہ جمعرات کو راولپنڈی کے مصروف چوہڑ چوک میں اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ آور نے خان ریسرچ لیباریٹری کی بس سے اپنی موٹر سائیکل ٹکرا دی۔

سٹی پولیس آفیسر راؤ اقبال کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہے۔ لیکن ریجنل پولیس افسر ناصر درانی کے مطابق اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بس خان ریسرچ لیبارٹریز کی سٹاف بس تھی جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے عملے کو لے کر جا رہی تھیْ۔ حکام کے مطابق دھماکے سے بس کے بائیں حصے اور اس کے قریب موجود متعدد گاڑیوں کوشدید نقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک خودکش حملہ آور جس کی طرف بیس باییس سال کے لگ بھگ تھی کچھ دیر پہلے ہی چوہڑ چوک کے قریب موٹر سائیکل کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی خودکش حملہ آور موٹر سائیکل کا پلگ کھول کر بیٹھ جاتا اور کبھی اس کی ہیڈ لائیٹ کو ٹھیک کرتا ہوا دکھائی دیتا۔

ٹیکسی ڈرائیور محمد اعجاز جس کی گاڑی جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی اُس کا کہنا تھا کہ جونہی چوہڑ چوک میں بس آکر رکی تو خودکش حملہ آور نے وقت ضائع کیے بغیر موٹر سائیکل کو سرکاری بس سے کے ساتھ ٹکرا دی۔ جس سے ایک زوردار دہماکہ ہوا جس سے بس کے علاوہ اُس کے قریب کھڑی ہوئی نو کے قریب گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔

پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لینے کے علاوہ زخمیوں کو ہسپتال بھی پہنچایا۔

پولیس اور فو ج کے اہلکاروں نے جائے حادثہ سے ضروری شواہد اکھٹے کرکے اُنہیں جانچ پڑتال کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ جس جگہ پر یہ حادثہ ہوا ہے وہ کینٹ کا علاقہ ہے اور اس سے قبل اسی مقام پر ایرانی کیڈٹس کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ریجنل پولیس افسر راولپنڈی ناصر خان درانی کاکہنا ہے کہ پولیس مشکوک افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس سے پہلے گاڑیوں کی تلاشی لے رہ تھی کہ کہیں شدت پسند گاڑیوں میں آتش گیر مادہ لےجاکر دہشت گردی کی کارروائی نہ کریں لیکن اب انہوں نے دہشت گردی کی وارداتوں میں نیا طریقہ نکالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں اس لیے پولیس نے اُن کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیے تھے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔