
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی کسی بھی ایسوسی ایشن یا انجمن کو سرکاری سطح پر فیصلے کرنے سے پہلے شامل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کو مشورہ مانگا جاتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ کے محکمۂ صحت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹری معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ پر نافذ کیے گئے نئے چارجز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔
دوسری جانب محکمۂ صحت نے پریس ریلیز جاری کی جس میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مختلف ٹیسٹوں کے لیے آنے والے مریضوں پر پہلے بھی چارجز عائد کیے جاتے رہے ہیں اور دس جون سے عائد کیے جانے والے چارجز کا مقصد صرف اور صرف ہسپتالوں میں ایکسرے فلموں اور طبی ٹیسٹوں کے لیے درکار کیمیکلز کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جو افراد یا تنظیمیں ان چارجز کے خلاف بے بنیاد واویلا مچارہی ہیں ان کا مقصد مریضوں کو گمراہ کرنے کے سِوا کچھ نہیں ہے۔
پی ایم اے یعنی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عزیز خان ٹانک اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر ثمرینہ نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمۂ صحت کی جانب سے تمام سرکاری ہسپتالوں کو خط جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی جتنی سہولیات ہیں مثلاً ڈاکٹر کے پاس معائنہ کرانا، الٹراساؤنڈ، ایکسرے، آنکھوں کا معائنہ، دانتوں کی فِلنگ، وغیر وغیرہ ان سب پر فیس لی جائے گی، کسی پر پچاس تو کسی پر سو روپے۔
ڈاکٹر ثمرینہ نے کہا کہ حکومت صحت کی کونسی بنیادی سہولیات عوام کو بہم پہنچا رہی ہے جو اس نے اب چارج کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کے بقول لوگوں کا یہ حق ہے کہ انہیں صحت اور ایمرجنسی کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں جو مل نہیں رہیں ہیں اور جو کچھ تھوڑا بہت میسّر ہے اس پر بھی فیس لگا دی جائے تو غریب لوگ کہاں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے گھر کے قریب تمام بنیادی سہولیات بہم پہنچائے لیکن یہاں تو اُلٹا ان بنیادی سہولیات دینے کے پیسے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال کے ساتھ ہی ایس آئی یو ٹی یعنی ادارہ برائے امراض گردہ و پیوند کاری موجود ہے جو فلاحی ادارہ ہے اور وہاں مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی مریض اگر ایس آئی یو ٹی جائے تو اسے مفت علاج ملے گا اور اس کے برابر سرکاری یعنی سول ہسپتال میں اسے پیسے دینے پڑیں گے۔
ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی کسی بھی ایسوسی ایشن یا انجمن کو سرکاری سطح پر فیصلے کرنے سے پہلے شامل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کو مشورہ مانگا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی انجمن پی ایم اے حضرات اور خواتین سے رابطہ کرے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالے گی تاکہ سرکاری ہسپتالوں پر اس قسم کے چارجز لگانے کے فیصلے کو واپس لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ غریب پہلے ہی مہنگائی میں پِس رہا ہے اور ہسپتالوں پر لگائے گئے نئے چارجز کی وجہ سے اسے مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمۂ صحت کی جانب سے لگائے گئے نئے چارجز کو حکومت فی الفور واپس لے۔
© MMX