Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 2 july, 2009, 11:19 GMT 16:19 PST

طالبان دھمکی، خاصہ دار ڈیوٹی سے گریزاں

اورکزئی ایجنسی میں اس وقت خاصہ دار اور لیوی فورس کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے

قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان کی طرف سے لیوی اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو نوکریاں نہ چھوڑنے پر دھمکیوں کے بعد کئی اہلکاروں نے ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماموں زئی اور آخیل قبیلوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سے زائد خاصہ دار اپنی بندوقیں اور وردیاں حکومت کے حوالے کرکے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک صرف اپر اورکزئی ایجنسی میں آباد قبائل سے تعلق والے خاصہ دار اور لیوی فورس کے اہلکاروں نے ڈیوٹی دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر قبائل کے خاصہ داروں نے بھی آپس میں جرگے شروع کردیئے ہیں اور آئندہ چند دنوں تک ان کی طرف سے بھی اعلان متوقع ہے۔

دوسری طرف پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ خاصہ دار اور لیوی فورس کو دھمکیاں ملی ضرور ہیں تاہم ابھی تک کسی اہلکار نے باضابطہ طورپر استعفی نہیں دیا ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ اپر اورکزئی میں چند اہلکاروں نے ڈیوٹی دینے سے انکار کیا ہے تاہم حکومت نے اس مسئلے کے حل کےلیے مقامی قبائل سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ چند دن قبل اورکزئی ایجنسی کے مقامی طالبان نے خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کو دھمکی دی تھی کہ وہ دس کے اندر اندر اپنی نوکریاں چھوڑ دیں ورنہ انہیں اور ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اورکزئی ایجنسی میں اس وقت خاصہ دار اور لیوی فورس کی تعداد دو ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اس فورس کے اہلکاروں کا تعلق مقامی قبائل سے ہوتا ہے۔ اورکزئی ایجنسی میں اٹھارہ قبائل آباد ہیں اور ہر قبیلے کو حکومت کی طرف سے خاصہ دار فورس میں بھرتیوں کےلیے آبادی کے لحاظ سے کوٹہ دیا جاتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔