Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 30 june, 2009, 14:56 GMT 19:56 PST

ڈرون پروازوں میں تیزی

طالبان ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبات کرتے رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی میں فوج کو شدت پسندوں کی نقل وحرکت سے آگاہ رکھنے کے لیے قبائلی علاقوں پر امریکی غیر مسلح جاسوسی طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں امریکی اور پاکستانی اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے پاکستان فوج کی بیت اللہ محسود گروپ کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت کی براہ راست ویڈیو تصاویر، ان کی آپس کی مواصلات کی جاسوسی اور دیگر معلومات کی فراہمی کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں ملکوں میں شدت پسندوں کے بارے میں معلومات میں اشتراک کے علاوہ اوباما انتظامیہ پاکستان فوج کو مال بردار ہیلی کاپٹروں کی فراہمی، فوجیوں کے لیے حفاظتی جیکٹوں اور دیگر دفاعی سازو سامان کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں بہت سی دفاعی اشیاء کی درخواست پاکستان فوج کی طرف سے کی گئی تھی تاکہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف مؤثر طریقے سے کارروائی کر سکے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا سکے۔

قبائلی علاقوں میں جاسوسی طیاروں کی یہ پروازیں ان ڈرون حملوں سے مختلف ہوں گی جن میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی طالبان کو گزشتہ دنوں اور مہینوں میں فضا سے نشانہ بناتی رہی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ منگل کو قبائلی علاقے میں ایک جنازے پر ہونے والے ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود صرف چند گھنٹوں کے فرق سے بچ گئے تھے۔

پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکار جو ڈرون طیاروں کے نظام کو چلاتے ہیں اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ ان کارروائیوں کو پاکستان فوج کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہناہے کہ ماضی میں اس طرح کے اشتراک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مدتوں پہلے امریکہ نے ڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع پاکستان کے خفیہ اداروں کو دینا بند کر دی تھی۔ ایک مرتبہ اس طرح کی اطلاعات شدت پسندوں یا طالبان تک پہنچ گئی تھی اور وہ ان حملوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ڈرون پروازوں کے شروع کیئے جانے سے پاکستان کے صدر آصف زرداری کی طرف سے متعدد مرتبہ پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے مطالبے سے امریکہ اورپاکستان میں پیدا ہونے والی کشیدگی بھی، عارضی طور پر ہی صحیح، کسی حد تک دور ہو جائے گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایک اعلی امریکی دفاعی اہلکار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان فوج اور سی آئی اے کے درمیان ان خفیہ معلومات کے اشتراک کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کرنے والے کمانڈروں کو قبائلی علاقوں پر محو پرواز ڈرون طیاروں سے براہ راست ویڈیو اور خفیہ معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طریقہ کار کے مطابق جنوبی وزیرستان میں جہاں پاکستان فوج کو شدت پسندوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ہو وہاں وہ امریکی فوج سے بغیر پائلٹ والے ان جہازوں کے ذریعے صرف اور صرف جاسوسی کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق ڈرون حملوں سے ویڈیو عکس پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب درۂ خبیر کے قریب واقع ایک مشترکہ اڈے کو موصول ہوتے ہیں جہاں پر موجود پاکستان اہلکار ان کا تجزیہ کرکے انہیں پاکستان فوج کے کمانڈ سینٹر بھیجے دیتے ہیں۔

ایک پاکستانی اہلکار نےاس بات کا اعتراف کیا کہ جاسوسی اور نگرانی میں امریکی کی طرف سے مدد میں اضافہ ہوا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی تعاون پورے طور پر نہیں ہو رہا ہے۔

امریکی اور پاکستانی ماہرین اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے آلات اور مشینیں لگانے میں مصروف ہیں تاکہ ان معلومات کی افغان سرحد کے ساتھ تعینات پاکستانی فوج کو فوری ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان فوج ان معلومات کے ذریعے شدت پسندوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت اور پاکستان کے اندر کارروائیوں پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں اور ایف سولہ طیاروں سے ان شدت پسندوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

نیویارک ٹایمز کے مطابق پاکستانی اور امریکی دفاعی حکام اس سال کے شروع میں ان خفیہ طیاروں کی پروازوں پر متفق ہوئےتھے تاکہ شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو امریکہ کی تکنیکی مدد فراہم کی جائے۔

پاکستان نے باجوڑ اور ارگرد کے علاقوں پر ڈرون پروازوں کی اجازت دی تھی لیکن جب پاکستانی فوج نے سوات اور بنیر میں کارروائی شروع کی تو یہ اجازت واپس لے لی گئی۔

پاکستانی حکام کو پاکستان کے اندر اس قدر دور تک ڈرون پروازوں کی اجازت دینے کے بارے میں خدشہ تھا کہ اگر کوئی طیارہ گر لیا گیا یا گر کر تباہ ہو گیا تو اس کا شدید عوامی رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔

اب جب کہ پاکستان فوج جنوبی وزیرستان میں کارروائی کر رہی ہے اس طرح کے خدشات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ڈرون پروازوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔

امریکی اور پاکستان حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون خفیہ طیاروں سے موصول ہونے والی معلومات بیت اللہ محسود اور اس کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈرون طیاروں کا نظام چلانے والے امریکی اب پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں جن میں بیت اللہ محسود بھی شامل ہیں ان پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور صرف اور صرف امریکہ مخالف القاعدہ کے عناصر کو نشانہ نہیں بنا رہے۔

اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکیورٹی کونسل، وزارت دفاع اور امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے اس پرتبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

امریکی اور پاکستان فوج کے اہلکاروں نے نام نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو یہ معلومات فراہم کئیں۔

صدر اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز ایل جونز اور سینٹرل کمانڈ جنرل ڈیویڈ ایچ پیٹریس نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا جائزہ لیا جا سکے اور افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر کے ایلچی رچرڈ ہال بروک پاکستان کو چوتھا دورہ کرنے والے ہیں۔

پاکستان حکام کا کہنا ہے کہ ہے وہ ابھی بھی امریکی حکام سے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں صحیح طریقے سے معلومات فراہم نہیں کی جاتیں اور سی آئی اے ڈرون حملوں کے کئی دن گزر جانے کے بعد اپنے اندازوں سے آگاہ کرتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔