
دو بڑے جنگجو سرداروں کی جانب سے یکے بعد دیگرے حکومت سے امن معاہدوں کے خاتمے کا اعلان ایک حد تک حیران کن ضرور ہے لیکن مکمل طور پر غیرمتوقع بھی نہیں ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں صف بندی کا ایک نیا راونڈ جنگجو سردار حافظ گل بہادر کے تازہ اعلان سے تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔
اس انتہائی اہم قبائلی علاقے میں اب ایک مرتبہ پھر حکومت اور شدت پسند آمنے سامنے ہیں اور ان کے درمیان خونی جنگ کے آثار ہیں اس خطے میں حالات جس طرح کے رہے ہیں اسے مدنظر رکھتے ہوئے بعض لوگ تو یہ کہنے پر مجبور ہیں شاید تازہ راونڈ بھی آخری نہ ہو۔
وزیرستان کے دو بڑے جنگجو سرداروں کی جانب سے یکے بعد دیگرے حکومت سے امن معاہدوں کے خاتمے کا اعلان ایک حد تک حیران کن ضرور ہے لیکن مکمل طور پر غیرمتوقع بھی نہیں ہے۔
اگرچہ جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر علاقے میں شدت پسندوں کے سربراہ ملا نذیر اور پھر شمالی وزیرستان میں ان کے ہم پلہ حافظ گل بہادر نے معاہدے توڑنے کا اعلان بقول ان کے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے لیکن یہ اس کی واحد وجہ نہیں ہے۔
تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس کی ایک بڑی وجہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ان کے علاقے میں جاری فوجی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ چند ہفتے قبل شروع ہوئے اس آپریشن میں جس کو ’راہ نجات‘ کا نام دیا جا رہا ہے فوج اب تک بڑی تعداد میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کرچکی ہے۔ جواب میں طالبان نے بھی جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔ بیت اللہ محسود اور دیگر دو جنگجو سرداروں میں اختلافات کافی ہیں۔ یہ یہی اختلاف ہے جس کی وجہ سے نہ تو حافظ گل بہادر اور نہ ہی ملا نذیر تحریک طالبان میں آج تک شامل ہوئے تاہم انہوں نے چند ماہ قبل آپس میں ایک اتحاد قائم کیا تھا۔
البتہ جب افغانستان میں امریکہ نے مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تو عام تاثر یہ تھا کہ یہ اتحاد شاید اسی کے جواب کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ لیکن اس اتحاد کی ایک شرط تینوں نے بڑی ہوشیاری سے یہ بھی رکھی کہ ان میں سے کسی ایک کے خلاف کارروائی کی صورت میں تینوں مل کر اپنا دفاع کریں گے۔ لگتا ہے حافظ گل بہادر اور ملا نذیر نے امن معاہدے ختم کرکے اتحاد کی اس شق پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔
حکومت کے شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے متنازع ہونے کے باوجود ان پر دستخط کرنے والے فریق اس کا آخری وقت دفاع کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کی افادیت کا یہ حال ہے کہ آج ملک میں ہونے والے شدت پسندوں کے ساتھ تمام امن معاہدے ختم ہوچکے ہیں۔ بظاہر فریقوں نے انہیں اپنے وقتی محدود فائدہ کے لیے استعمال کیا۔ یہ فائدہ اس وقت زیادہ جانی نقصان سے بچنے، تازہ دم ہونے یا دوبارہ منظم ہونے کی صورت میں ان معاہدوں سے اٹھایا گیا ہے۔ لہذا ان سمجھوتوں کا فائدہ ختم ہونے کے پہلے اشارے کے ساتھ ہی اسے ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا جاتا ہے۔
اس مرتبہ کی لڑائی بعض مبصرین کے مطابق ماضی سے زیادہ خونی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس دفعہ تینوں جنگجو سردار متحد دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حکومت ابھی مالاکنڈ آپریشن کو مکمل نہیں کر پائی ہے اور بونیر جیسے ابتدائی دنوں میں صاف کر دیئے جانے والے ضلع میں بھی حملے اور بم دھماکے جاری ہیں۔
ایسے میں حکومت اور شدت پسند کو لڑنے میں مصروف رہیں گے لیکن عام شہری خصوصا عام قبائلی مسلسل غیریقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔ پستے رہیں گے۔
© MMIX