
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے آپریشن چیف ذکی الرحمان لکھوی جنہیں ممبئی حملوں کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔
راجا فیصل مجید جو کہ ایک وکیل ہیں اور دولائی میں رہائش پذیر ہیں انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا۔
کلِک
سب پراپیگنڈہ ہے: ترجمان جماعت الاعوۃ
’یہاں ان کا تحفظ بھی کیا جا رہا ہے اور ساتھ پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ ان ہم ان کو کنٹرول کر رہے ہیں حالانکہ دوسرے گاؤں میں ایک کیمپ بنایا گیا ہے میرے گھر کے ساتھ اور میں نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے کہ یہ لوگ کل کو میرے لیے خطرہ بھی ہو سکتے ہیں اور آپ میڈیا اور پبلک میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ان کو بین کر دیا ہے تو پھر یہاں ان کے مختلف ناموں سے کیمپوں کی کیا ضرورت ہے۔ کبھی کسی ویلفئر کے نام سے بورڈ لگا دیا جاتا ہے کبھی کسی سکول یا اکیڈمی کے نام کا بورڈ لگا دیا جاتا ہے۔ یہاں انہوں نے کافی سارا رقبہ لے لیا ہے جس میں بڑی تعداد میں ان کے لوگ رہ رہے ہیں
چند ماہ پہلے جب وہاں انڈیا نے بھی شور شرابہ کیا اور پاکستان میں بھی شور ہوا تو انہیں وہاں سے سترہ کلو میٹر دولائی میں شفٹ کر دیا گیا ایک گاؤں میں۔اور یہاں انہوں نے بڑی تعداد میں کیمپینگ شروع کر دی ہے اور کافی بڑی تعداد میں ان کی کالونیاں بنی ہوئی ہیں۔ایک ہسپتال اور ایک اکیڈمی انہوں نے بنا لی ہے۔
ان کو ہماری ایجنسیاں مختلف مقاصد کے لیے استمعال کرتی ہیں پہلے تو جہاد کشمیر کا مسئلہ تھا لیکن اب تو وہ بھی بند ہو چکا ہے تو اب ان کا وجود ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور یہ ہمارے ملک کے اندر ہی فرقہ وارانہ سرگرمی میں استمعال ہو سکتے ہیں ان لوگوں کو ان مقاصد اور ٹارگٹ کے لیے استمعال کیا جا رہا ہے۔
ان کو نکالنے کے لیے تناؤ تھا، ابھی تو اس علاقے کے لوگوں کو یہ لوگ مراعات دی رہے ہیں تاکہ انہیں لوگوں کی جانب سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔ان کو پانی کی سپلائی دی جاتی ہے لنگر میں بریانی کھلائی جاتی ہے۔
مجھے ایجنسیوں کے کچھ لوگ ملے تھے میں نے انہیں پہلے زبانی سب بتایا پھر مجھے لوگوں نے کہا کہ پریس میں دیں۔میں نے پریس میں دیا کافی لیڈیں لگیں کہ یہاں فلاں تنظیم کے لوگ رہ رہے ہیں۔ اس کے بعد نہ تو کچھ ہوا اور نہ ہی مجھے کوئی ایجنسی کا بندہ ملا۔
یقینا میری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے پر میں نہیں ڈرتا کیونکہ مجھے زندگی اور موت پر یقین ہے‘۔
© MMIX