
چین رواں سال پنجاب حکومت کو سات سو سی این جی بسیں فراہم کرے گا
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سی این جی سے چلنے والی بس سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔ ابتدائی طور پر شہر کی سڑکوں پر تیس کے قریب ایسی بسیں نظر آئیں گی جو سی این جی سے چلتی ہیں۔
یہ بس سروس لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے اڑھائی برس بعد شروع کی گئی ہے جو دسمبر سنہ دو ہزار چھ میں سنایا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں اس وقت کی حکومت کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک سال کے اندر یعنی دسمبر دو ہزار سات کے اختتام تک ایسی بس چلائے جو سی این جی سے چلتی ہوں۔
وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے اتوار کے روز سی این جی بس سروس کا افتتاح کیا اور وہ خود بھی اس بس میں سوار ہوئے جو چین سے درآمد کی گئی ہے۔
حکومت پنجاب نے چین کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر شہر میں سی این جی بسیں چلانے کا منصوبہ شروع کیا ہے اور اس مقصد کے لیے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی قائم کی گئی ہے۔
اسی منصوبے کے تحت بڑے شہروں میں پبلک یا پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سی این جی ایئر کنڈیشند بسیں چلائی جائیں گے۔صوبائی حکومت نے ان بسوس کی درآمد پر پرائیورٹ ٹرانسپورٹرز کو پچیس فیصد چھوٹ دی جائے گی اور بسوں کی درآمد پر امپورٹ ڈیوٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
معاہدے کے تحت رواں سال کے اختتام تک صوبائی حکومت کو سات سو سی این جی بسیں فراہم کی جائیں گے جو لاہور میں چلیں گے۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ میاں مجتبٰی کے بقول چین کی کمپنی کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت مرحلہ وار دو ہزار بسوں کی کھیپ پاکستان پہنچے گی اور ان بسوں کو صوبے کے دیگر شہروں چلایا جائے گا۔
شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے لاہور میں زیر زمین میٹرو ٹرین بھی چلائی جائے گی۔
© MMIX