Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 29 june, 2009, 13:58 GMT 18:58 PST

’کشمیر میں کالعدم تنظیمیں پھر متحرک‘

زکی لکھوی (فائل فوٹو)

ممبئی حملوں کے بعد کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے آپریشن چیف ذکی الرحمان لکھوی گرفتار کیاگیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے ایک خفیہ رپورٹ میں حکومت کو خبردار کیا کہ کالعدم شدت تنظیمیں حالیہ چند مہینوں میں ایک بار پھر اس خطے میں سرگرم ہوگئی ہیں۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت الدعوۃ نے اسی سال مارچ میں مظفرآباد کے قریب دولائی کے مقام پر ایک مقامی شخص سے پینسٹھ کنال زمین پانچ سال کے لیے کرائے پر حاصل کی ہے جہاں وہ اپنا مرکز قائم کررہے ہیں۔

کلِک سب پراپیگنڈہ ہے: ترجمان جماعت الاعوۃ

کلِک کلِک ’جان کو خطرہ محسوس ہوتا ہے‘

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی رپورٹ کابنیہ کے سامنے نہیں آئی جس سے لگتا ہو کہ یہ تنظیمیں پھر متحرک ہوگئی ہیں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خفیہ ادارے کی کوئی رپورٹ اس بارے میں ہو تو یہ اور بات ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنظیم نے وہاں ایک درجن سے زیادہ عارضی مکانات کے علاوہ ایک مسجد، ایک سکول اور ایک ڈسپنسری تعمیر کرلی ہے۔ مزید تعمیرات ابھی جاری ہیں۔

نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں شدت پسندوں کےحملوں کے بعد اقوام متحدہ نےجماعت الدعوۃ پریہ کہہ کر پابندی عائد کی تھی کہ جماعت الدعوۃ دراصل لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔

بھارت نےممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ پر عائد کیا تھا اور اس حملے میں بچ جانے والا واحد حملہ آور اجمل قصاب بھارت کی تحویل میں ہے۔

تاہم جماعت الدعوۃ یا لشکر طیبہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ ان کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں۔

سن دو ہزار میں پابندی عائد کیے جانے کے بعد جہادی گروہوں کو اپنے کیمپ بند کرنے پڑے تھے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے پابندی عائد کئے جانے کے بعد حکومت پاکستان نےجماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں تنظیم کے دفاتر بند کردیئے تھے۔اقوام متحدہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کئے جانے سےچند دن قبل پاکستان کی فوج نے مظفرآباد کے قریب علاقے شوائی نالہ میں مبینہ طور پر لشکر طیبہ کے زیر استعمال مرکز پر کارروائی کی تھی اور اسے اپنےقبضے میں لے لیا تھا۔

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے آپریشن چیف زکی الرحمان لکھوی کو جنہیں بھارت ممبئی حملوں کا سرغنہ قرار دیتا ہے،اسکارروئی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سےجماعت الدعوۃاور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کے باعث ان تنظیموں کےاراکین زیر زمین چلےگئے تھے لیکن اب چند مہنیوں سے وہ دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جماعت الدعوۃ کےاراکین اپنے دفاتر اور رہائش دولائی کے مقام پر زیر تعمیر نئے مرکز میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سےجماعت الدعوۃاور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کے باعث ان تنظیموں کےاراکین زیر زمین چلےگئے تھے لیکن اب چند مہنیوں سے وہ دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں۔

پولیس رپورٹ

پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ اہلحدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس کے مرکز کے قرب و جوار میں بیشتر مقامی آبادی کا تعلق بریلوی اور اہل تشیح مکتبہ فکر سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیم اپنے مسلک کی تبلیغ کرے گی جس کی وجہ سے نقض امن کا خطرہ ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پہلے بھی مظفرآباد میں جماعت الدعوۃ اور مقامی لوگوں کے درمیان زمین کے تنازعے پر ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں دیگر کالعدم جہادی تنظیمیں کی سرگرمیوں کے بارے بھی میں ذکر کیا ہے۔

خفیہ رپورٹ کے مطابق کلعدم تنظیم حرکت المجاہدین نے مظفرآباد کے نواح میرا تنولیاں میں اپنے دفتر کے علاوہ ایکمدرسہ بھی قائم کیا ہے۔

اسی طرح سے رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیم جیش محمد نے بھی مظفرآباد کے قریب نالہ شوائی میں دفتر کے ساتھ ساتھ مدرسہ بھی قائم کر رکھا ہے جبکہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ نے بھی اسی مقام پر مدرسہ قائم کیا ہے۔

ان جہادی تنظیموں کی سب سے زیادہ سرگرمیاں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے ساتھ واقع وادی نیلم میں دیکھی گئی ہیں۔

پولیس رپورٹ

جیش محمد اور لشکر طیبہ پر بھارتی پارلیمان پر حملہ کرنے کا الزام ہے اور بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے سنہ دو ہزار دو میں ان دونوں تنظیموں پر پابندی عائد کردی تھی۔ جیش محمد پر پاکستان کےسابق صدر پرویز مشرف پر کئی قاتلانہ حملوں کے ساتھ ساتھ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کا بھی الزام ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو کالعدم تنظیموں کےمدرسوں میں جانے کی اجازت نہیں اور نہ ہی یہ تنظیمیں زیر تعلیم بچوں کے کوائف مہیا کررہے ہیں۔

رپورٹ میں خدشہ کا ظاہر کیا گیا ہے کہ ان تظیموں نے مدرسوں کی آڑ میں ’جہادی سرگرمیاں‘ جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں یہ نشاندہی کی ہے کہ ان جہادی تنظیموں کی سب سے زیادہ سرگرمیاں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کے ساتھ واقع وادی نیلم میں دیکھی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عسکری تنظیموں نے کنڈل شاہی میں اپنے دفتر قائم کئے ہیں اور وہ وہاں کی انتظامیہ کے لیےدرد سر بن گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں دو مقامی افراد کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم کی سی صورت پیدا ہوگئی تھی لیکن بعد میں حکام کی مداخلت پر یہ معاملہ حل کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا اصرار ہے کہ عسکریت پسندوں کو وہاں سے کئی اور منتقل کیا جائے۔

لیکن اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت ان کے خلاف کوئی کاروائی کرے گی یا نہیں فی الوقت کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔